امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی سے متعلق امریکا کی نئی تجویز پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں، جبکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ انہیں یہ مجوزہ معاہدہ موصول ہوچکا ہے اور اس کا تفصیل سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ اسرائیل نے غزہ کے لیے پیش کی گئی نئی جنگ بندی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ یہ تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے تیار کی گئی تھی، اور اسرائیل کی منظوری کے بعد ہی حماس کو ارسال کی گئی۔
ترجمان کے مطابق مذاکرات جاری ہیں اور امریکی انتظامیہ پرامید ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت نہ صرف لڑائی رُکے گی بلکہ تمام یرغمالیوں کی واپسی بھی ممکن ہو سکے گی۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کا نیا مکروہ منصوبہ: فلسطینی علاقے میں 22 نئی یہودی بستیاں بنانے کا اعلان
ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی مغویوں کے اہلخانہ سے ملاقات میں تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت نے امریکی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ یہ اقدام مغویوں کی بازیابی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔
عرب میڈیا اور حماس کے ذرائع کے مطابق اسٹیو وٹکوف کی پیش کردہ اس تجویز میں 60 روزہ جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ مسودے کے تحت پہلے مرحلے میں حماس اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس کرے گی، جبکہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ 10 قیدیوں کی رہائی ایک ہفتے کے اندر مکمل کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکا کی جانب سے ایک جنگ بندی تجویز پیش کی گئی تھی جسے حماس نے قبول کیا تھا، تاہم اسرائیلی حکام نے اسے رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تجویز امریکی تھی، اسرائیلی نہیں۔
مزید پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزیاں اور اسکول تباہ کرنے پر پاکستان کی شدید مذمت
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 سے جاری حملوں میں اب تک 54 ہزار 249 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
معاہدے کی پیشرفت اس بات کی امید دلاتی ہے کہ شاید مہینوں سے جاری خونریزی رک سکے اور انسانی بحران میں کمی آ سکے، تاہم حتمی جنگ بندی کا انحصار اب حماس کے ردعمل پر ہے۔














