ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد منظور

بدھ 11 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کر لی، جس کے حق میں اکثریت نے ووٹ دیا، جبکہ چین اور روس اجلاس کے دوران غیر حاضر رہے۔

سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد خلیجی ممالک کی جانب سے تیار کی گئی تھی جس کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا۔ چین اور روس اس قرارداد پر ووٹنگ کے وقت موجود نہیں تھے۔ پاکستان نے بھی خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا اور اس کا شریک سرپرست (کو اسپانسر) بھی تھا۔

بحرین کے مندوب کے مطابق ایران کے حملوں کی مذمت سے متعلق اس قرارداد کو 135 ممالک کی حمایت حاصل تھی، جو اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل ایبولا کے مسئلے پر پیش کی گئی قرارداد کو 134 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کرتا ہے اور ایران کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حملوں سے متحدہ عرب امارات میں 2 پاکستانی شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں اور موجودہ صورتحال میں مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کا حل نکالنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک ملک کو خطے کے دیگر ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا حق نہیں۔

اجلاس میں اماراتی مندوب ابوشہاب نے کہا کہ ایرانی حملے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک متحد ہو کر ان حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس دوران صبر اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل میں اس معاملے پر مزید پیشرفت کے طور پر روس کی جانب سے پیش کردہ ایک اور قرارداد پر بھی ووٹنگ متوقع ہے۔

ایران جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے اور یہ تنازع وہ جب چاہیں ختم کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے زیادہ تر اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور اب نشانہ بنانے کے لیے بہت کم چیزیں باقی رہ گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ اب زیادہ دور نہیں اور یہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول جب میں چاہوں گا یہ جنگ ختم ہو جائے گی، کیونکہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے بیشتر مقاصد حاصل کیے جا چکے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس نہ مؤثر بحریہ باقی رہی ہے، نہ مواصلاتی نظام اور نہ ہی فضائیہ، جبکہ اس کے میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بھی بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مشترکہ فوجی کارروائی جب تک ضروری ہوا جاری رہے گی۔ ان کے مطابق تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں حملے روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھے جائیں گے تاکہ تمام اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایرانی عوام کو موجودہ قیادت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا موقع دینا بھی ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا ہوگا۔

ادھر ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کسی بھی قسم کی ’چالاکی‘ سے باز رہے، ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے کوئی اشتعال انگیز قدم اٹھایا تو اس کے خلاف ایسی فوجی کارروائی کی جائے گی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی خبروں پر بھی ایران کو تنبیہ کی اور کہا کہ اگر ایسا ہوا تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جائے، بصورت دیگر ایران کو سخت فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیج سکتے ہیں، امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کردیا

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں، جبکہ تہران کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جارہا ہے، اور آج پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 میں امریکی اہداف کے خلاف میزائل حملوں کی 39 ویں لہر کا اعلان کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبریں

ایران کے ایک عہدیدار نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای معمولی زخمی ہوئے ہیں، تاہم وہ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

عہدیدار کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کو ہلکی نوعیت کی چوٹیں لگی ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ زخم کب یا کس وجہ سے لگے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کو حال ہی میں اسرائیلی حملے میں معمولی چوٹیں لگی تھیں۔

مشرق وسطیٰ کشیدگی: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید 3 جہازوں پر ڈرون سے حملہ

آبنائے ہرمز کے راستے 3 مزید جہاز نامعلوم ڈرون سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد ایران کے تنازعے کے آغاز سے اس خطے میں نقصان اٹھانے والے جہازوں کی تعداد کم از کم 14 ہوگئی ہے۔

آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت قریباً رک گئی ہے کیونکہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری سے ایران پر حملے شروع کیے، جس کی وجہ سے تیل کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں اور تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ گزرگاہ سے گزرنے والا کوئی بھی جہاز نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران اس راستے میں رکاوٹ پیدا کرتا رہا تو امریکا حملے بڑھا دے گا۔

بدھ کے روز تھائی پرچم والا جہاز گزرگاہ میں سفر کرتے ہوئے 2 نامعلوم ڈرونز سے متاثر ہوا، جس سے آگ لگی اور انجن روم کو نقصان پہنچا۔

کمپنی کے مطابق 3 عملے کے ارکان لاپتا ہیں اور ان کے انجن روم میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ باقی 20 عملے کے ارکان کو محفوظ طور پر عمان ساحل پر منتقل کردیا گیا۔

تھائی نیوی کی فراہم کردہ تصاویر میں جہاز کے پچھلے حصے سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔

ایرانی گارڈز نے تصدیق کی کہ جہاز ایرانی لڑاکا طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

امریکی نیوی نے جنگ کے آغاز کے بعد سے تجارتی جہازوں کی مسلسل درخواستوں کے باوجود ہرمز کے راستے فوجی اسکواڈ فراہم کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر امریکا بحری اسکواڈ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر جاپان کے پرچم والے جہاز کو بھی نامعلوم ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے جس سے اسے معمولی نقصان پہنچا، تاہم عملہ محفوظ رہا۔

تیسرا جہاز، ایک بلک کیریئر 50 میل شمال مغرب دبئی میں نامعلوم ڈرون سے متاثر ہوا، اس حملے میں بھی عملہ محفوظ رہا۔

ایرانی گارڈز کے بیان میں ایک اور جہاز کا ذکر بھی شامل تھا جس پر ڈرون سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

یہ واقعہ ایران اور امریکی اسرائیلی کشیدگی کے دوران تجارتی جہازوں کی حفاظت کے خدشات کو مزید بڑھاتا ہے۔

ایرانی حملے خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں، قطری وزارت دفاع

قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ تہران سے فی الحال کوئی رابطہ نہیں اورایرانی حملے خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں، آج صبح ملک پرایک میزائل حملہ روکا گیا۔

دوسری جانب کویت نیشنل گارڈ نے 8ڈرونز کو روکا، جن میں ہوائی اڈے کے ایندھن کے ٹینکوں پر حملہ بھی شامل تھا، جس میں 2 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔

تازہ ترین حملوں میں کوئی نئی ہلاکتیں رپورٹ نہیں ہوئیں، لیکن آج کے دن کے دوران فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے بات چیت کرسکتا ہوں لیکن یہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا، صدر ٹرمپ

عمان کے دارالحکومت میں متوقع مسقط انٹرنیشنل بک فیئر ملتوی کر دیا گیا ہے، تاہم یہاں گزشتہ 12 گھنٹوں میں کوئی نیا حملہ یا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

بحرین میں ایرانی حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، سترا کے علاقے میں ایک ڈرون حملے کے بعد معمیر مرکز میں آگ لگی، اس سے قبل منامہ میں ایک رہائشی عمارت پر ڈرون حملے میں ایک عورت ہلاک اور 8افراد زخمی ہوئے تھے۔

 https://Twitter.com/Reuters/status/2031651386484564152

 متحدہ عرب امارات کی فضائی دفاع نے ایران سے آنے والے میزائل اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے، وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اماراتی حکومت جنگ کے آغاز سے اب تک 1,000 سے زائد حملوں کے جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کارگو شپ پر حملہ

 ایک نامعلوم پروجیکٹائل نے آبنائے ہرمز میں ایک کارگو شپ کو ہدف بنایا ہے، جس سے آگ لگی اور عملے کو نکالنا پڑا۔

 برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے پورٹ کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ ہوا، جس سے جہاز پر آگ لگ گئی ہے۔

دنیا 200 ڈالر فی بیرل تیل خریدنے کے لیے تیار ہو جائے، ایران نے خبردار کردیا

ایران نے خبردار کیا ہے کہ دنیا 200 ڈالر فی بیرل تیل خریدنے کے لیے تیار ہو جائے۔

ایران کے خاتم‌الانبیا فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر نے کہاکہ ملک اپنے حریفوں کے خلاف حملوں کی حکمت عملی اپنائے گا۔

ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہاکہ امریکا تیل کی قیمتوں کو قابو میں نہیں رکھ سکے گا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہم امریکیوں، اسرائیل اور ان کے شراکت داروں تک ایک بھی لیٹر تیل نہیں پہنچنے دیں گے۔ کسی بھی بحری جہاز یا ٹینکر جو ان کی جانب جائے گا، وہ ہمارا جائز ہدف ہوگا۔

ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل کے لیے تیار ہو جائیں، کیونکہ تیل کی قیمت علاقائی سیکیورٹی پر منحصر ہے، جسے غیر مستحکم کردیا گیا ہے۔

 84 ایرانی ملاحوں کی لاشیں ایرانی سفارت خانے کو دینے کا حکم

 سری لنکا کی ایک عدالت نے حکم دیا کہ گزشتہ ہفتے جزیرے کے ساحل کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر حملے میں جاں بحق ہونے والے 84 ملاحوں کی لاشیں ایران کے سفارت خانے کو سونپی جائیں۔

 امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی دی ہے، تاہم ایران نے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب مذاکرات نہیں کرے گا۔

اس جنگ کے دوران اب تک 1300 سے زیادہ ایرانی جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والی 170 بچیاں اور اسٹاف بھی شامل ہیں۔ ایران نے خطے میں موجود امریکی بیسز پر جوابی حملوں کا اعلان کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پر بھی فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں جس کے بعد اس جنگ کا دائرہ کار خطے میں وسیع ہوگیا ہے۔

پاسداران انقلاب نے گوگل سمیت دیگر ٹیک کمپنیوں کو ‘جائز ہدف’ قرار دیدیا

ایران کے پاسداران انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی نے ایران کے اہداف کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں امریکی اور اسرائیلی روابط رکھنے والی بڑی ٹیک کمپنیوں کے دفاتر اور انفراسٹرکچر شامل ہیں، جن کی ٹیکنالوجی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوئی ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، جیسے جیسے علاقائی جنگ کا دائرہ انفراسٹرکچر تک پھیل رہا ہے، ایران کے جائز ہدف بھی وسیع ہو رہے ہیں۔

اس فہرست میں گوگل، مائیکروسافٹ، پیلانٹیر، آئی بی ایم، این ویڈیا اور اوریکل شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کے کلاؤڈ بیسڈ سروسز کے دفاتر متعدد اسرائیلی شہروں کے علاوہ کچھ خلیجی ممالک میں بھی واقع ہیں۔

دبئی ائرپورٹ کے قریب 2 ڈرون گرنے سے 4افراد زخمی

دبئی میڈیا آفس کے مطابق دبئی ائرپورٹ کے قریب 2ڈرون گرنے سے 4 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

چین کی خلیجی ممالک پر حملوں کی مخالفت

چین نے کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے والے حملوں سے متفق نہیں اور غیرملکی شہریوں اور غیر فوجی مقامات پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔

چین کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاؤکُن نے بدھ کو ایک معمول کی نیوز بریفنگ میں کہا کہ یہ حملے شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالتے ہیں، تاہم انہوں نے ایران کا نام نہیں لیا۔

جنگی جہاز کو ہندوستان کی جانب سے منعقدہ نیول مشق کے دوران امریکی سب میرین کے ٹورپیڈو سے نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ یہ جہاز مشق سے واپس آ رہا تھا، یہ حملہ ایران پر امریکا اسرائیل کی جنگ کے دوران ہوا۔

اگر روس ایران کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کرے تو ٹرمپ خوش نہیں ہوں گے، وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خوش نہیں ہوں گے اگر روس ایران کے ساتھ خفیہ اطلاعات شیئر کر رہا ہو، تاہم وائٹ ہاؤس نے ماسکو پر سخت تنقید نہیں کی۔

وائٹ ہاؤس نے یہ بھی بتایا کہ امریکا نے ایران کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران کچھ روسی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر روک دی ہیں۔

پریس سیکریٹری کیرو لائن لیویٹ نے کہا کہ صدر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے روس کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر یہ معلومات شیئر ہو رہی ہیں تو یہ انہیں خوش نہیں کرے گا۔

ایرانی حملوں میں 150 امریکی فوجی زخمی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں تقریباً 150 امریکی فوجی زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

روئٹرز کے مطابق یہ معلومات پہلی بار منظرِ عام پر آئی ہیں، اس سے قبل پینٹاگون نے صرف 8 امریکی اہلکاروں کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے آغاز سے اب تک تقریباً 140 امریکی اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر معمولی نوعیت کے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ گئیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت

ان میں سے 108 اہلکار پہلے ہی اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، جبکہ 8 شدید زخمیوں کو اعلیٰ سطح کی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ روئٹرز کے مطابق زخمیوں کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں۔

پوپ لیو کا مشرق وسطیٰ میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس

 پوپ لیو نے کہا کہ وہ خطے کی صورتِ حال کو شدید تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تمام ہلاکتوں پر ‘گہرا رنج’ محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ‘بہت سے معصوم افراد اور متعدد بچے’ بھی شامل ہیں۔ پوپ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف افراد بھی شامل تھے، جن میں مارونی پادری فادر پیئر ایل راہی بھی شامل ہیں جو پیر کے روز قلعیا، لبنان میں ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔

پوپ لیو نے دعا کی کہ خطے میں جاری تمام دشمنیاں جلد از جلد ختم ہوں اور امن بحال ہو۔

امریکا کا آبنائے ہرمز میں 16 ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکا کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔

بیان کے مطابق یہ کارروائی خطے میں سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئی۔

ایران سے بات چیت کرسکتا ہوں لیکن یہ شرائط پر منحصر ہوگا۔ صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مناسب شرائط سامنے آئیں تو ایران کے ساتھ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

امریکا نے 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران جانی نقصانات سے متعلق رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قریباً 140 امریکی فوجی 10 روزہ لڑائی کے دوران زخمی ہوئے۔

دوسری جانب خبر ایجنسی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 150 تک پہنچ چکی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اب تک امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی۔

ادھر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کررہا ہے۔

توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خطرناک ہوگا، قطر کا ایران کو انتباہ

قطر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور ایرانی جارحیت سے نمٹنا اس کی اولین ترجیح ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر اب بھی سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے تاہم کسی بھی حملے کی صورت میں مناسب اور مؤثر ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے قطر کے وزیرِ اعظم اور ایران کے وزیرِ خارجہ کے درمیان اب تک صرف ایک مرتبہ رابطہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے ذرائع مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے تاہم قطر اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ماجد الانصاری کے مطابق قطر نے اہم تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات بھی کر لیے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا انتہائی خطرناک ہوگا اور اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

لبنان: بیروت میں ہوٹل پر اسرائیلی حملہ، 4 ایرانی سفارتکار شہید

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک ہوٹل پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایران کے 4 سفارتکار شہید ہو گئے۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر نے منگل کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملے میں ایرانی سفارت خانے کے چار اہلکار جان سے گئے۔

ایرانی سفیر نے اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکربٹری جنرل اور سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کے صدور کو ایک ہنگامی خط بھی ارسال کیا ہے۔

خط میں بتایا گیا کہ 8 مارچ کو اسرائیل نے بیروت کے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایرانی سفارتی عملے کے چار ارکان شہید ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہدا میں سفارت خانے کے سیکنڈ اور تھرڈ سیکرٹری، ملٹری اتاشی اور ملٹری مشن آفیسر شامل ہیں۔

دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق وسطی بیروت میں واقع رمادا ہوٹل کے ایک اپارٹمنٹ پر ہونے والے اس حملے میں مجموعی طور پر چار افراد جاں بحق جبکہ دس زخمی ہوئے۔

آبنائے ہرمز جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی، علی لاریجانی

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کی گزرگاہ بنے گی، یا پھر جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی۔

ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار، میزائل حملے جاری رکھنے کا عندیہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں اور ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اپنے دفاع کا حق استعمال کررہا ہے اور انہیں ایک غیر قانونی جارحیت کا سامنا ہے۔

پاسداران انقلاب کا انتباہ

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ جنگ کے اختتام کا فیصلہ صرف ایران کرے گا۔ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو وہ خطے سے ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیں گے۔

پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ وہ ایران سے تعلق رکھنے والے ممالک کو اسرائیلی و امریکی سفیروں کے اخراج کے بعد آبنائے ہرمز کے استعمال کی پیشکش بھی کر سکتے ہیں۔

ہم پر حملے جاری رہے تو خطے سے ایک قطرہ تیل نہیں نکلے گا، پاسداران انقلاب

ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے جاری رہے تو خطے سے ایک قطرہ بھی تیل نہیں نکلے گا۔

آئی آر جی سی (پاسداران انقلاب) کے ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ ہرمز کی تنگی جو دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہے دشمن ملکوں اور ان کے شراکت داروں کے لیے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

یہ انتباہ 28 فروری کو سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد دوسرے ہفتے کے شدید جھڑپوں کے دوران سامنے آیا۔

عالمی مارکیٹیں پہلے ہی غیر مستحکم ہو چکی ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ اگر تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی تو حملے بیسیوں گنا سخت ہوں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا سے بات چیت کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب امریکا کے ساتھ بات چیت ہماری ایجنڈا میں نہیں۔

105 میزائل اور 176 ڈرون تباہ کر دیے گئے، بحرین

بحرین کی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج اور تنصیبات کی میزبانی کرنے والے ممالک کے خلاف جوابی حملوں کے بعد اب تک 105 میزائل اور 176 ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔

بحرین ڈیفنس فورس کے جنرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو کامیابی سے روک کر انہیں تباہ کیا۔

بیان کے مطابق فضائی دفاعی یونٹس ایرانی حملوں کی مسلسل لہروں کا جواب دے رہے ہیں اور ملکی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

بحرینی حکام نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی دستے پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بحرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور اہلکاروں کی تیاری کی بدولت ملک کی فضائی حدود کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ایران شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار، آج حملوں میں مزید شدت آئےگی، امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے اور وہ میزائل حملوں کے لیے اسکولوں اور اسپتالوں جیسے مقامات کا استعمال کر رہا ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی جنرل ڈین کین کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران اس وقت عالمی سطح پر تنہا کھڑا ہے اور میدان میں بری طرح پسپا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کے میزائل پروگرام اور دفاعی صنعتی مراکز کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ کی صلاحیت کو ختم کرنا بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے اور آج حملوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

ان کے بقول گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے نسبتاً کم تعداد میں میزائل فائر کیے گئے۔

امریکی فوج اب اپنا دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں رہی، ترجمان ایرانی مسلح افواج

ایران کے مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بچوں کے قاتل اسرائیلی حکومت کی حفاظت کے لیے ایران پر وحشیانہ حملے کیے، لیکن طاقتور ایران اور بہادر ایرانی قوم نے ٹرمپ کے غرور اور امریکی فوج کی طاقت کو ناکام بنا دیا۔

جنرل شکارچی نے کہاکہ دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا ہے کہ مجرم امریکا کی مغربی ایشیا میں موجودگی ہی خطے میں غیر یقینی صورتحال کا اصل سبب ہے۔

ان کے بقول امریکی فوج اب اپنی حفاظت بھی یقینی بنانے کے قابل نہیں، اور وہ خطے کے عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے جبکہ خود فرار ہو جاتی ہے۔

پیٹرولیم بحران: بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا اجلاس طلب

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں آئی ای اے کے رکن ممالک کے حکومتی نمائندے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے جی سیون کے توانائی وزرا کے اجلاس کے بعد کہاکہ میں نے آئی ای اے کے رکن ممالک کی حکومتوں کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا ہے، جو آج بعد میں منعقد ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا آئی ای اے ممالک کے ہنگامی تیل کے ذخائر کو مارکیٹ کے لیے دستیاب کیا جائے یا نہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط لکھ کر انہیں سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد دی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے امت مسلمہ کے لیے دعاؤں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات پر پاکستانی عوام شدید دکھ میں ہیں اور مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور زبان کی بنیاد پر مضبوط ہیں۔

وزیراعظم نے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور تمام شعبوں میں باہمی مفاد کے لیے ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف نے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت، کامیابی اور ایرانی عوام کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعائیں بھی کیں۔

ایران نے ثالثی کے لیے شرط بتا دی

ایران کی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ کسی بھی ثالثی کے عمل کے لیے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف جنگ بندی ہو بلکہ حملے مکمل طور پر بند ہوں اور یہ یقین دہانی بھی ہو کہ مستقبل میں ایسے حملے دوبارہ نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا، ‘یہ معاملہ ہمارے عوام کی آج کی سنجیدہ ضرورت ہے اور انہیں اس یقین دہانی کی ضرورت ہے۔ ہم نے جنگ شروع نہیں کی لیکن ہم اسے ختم کریں گے۔’ یہ بات نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کی۔

ایران کے خلاف کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی، نیتن یاہو

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا، ‘ہماری خواہش ہے کہ ایرانی عوام ظلم کے جبر سے آزاد ہوں؛ آخرکار یہ ان پر منحصر ہے۔ لیکن جو اقدامات اب تک کیے گئے ہیں، ان سے ہم ان کی ہڈیوں کو توڑ رہے ہیں اور ہم ابھی ختم نہیں ہوئے۔’

امریکی اڈوں پر حملے محض دفاعی اقدام ہیں، ایران

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں پر حملے محض اپنے دفاع میں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘ہم نے پہلے ہی خطے کے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ہم پر حملہ کرے، چونکہ ہم امریکی سرزمین تک نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا ہمیں ان کے خطے میں موجود اڈوں، سہولیات اور اثاثوں پر حملہ کرنا پڑے گا۔’

عراقچی نے مزید کہا، ‘ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ محض اپنی حفاظت ہے، ہم ایک جارحانہ اقدام کا سامنا کر رہے ہیں جو بالکل غیر قانونی ہے۔’

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp