انوکھی مثال، بیوہ ماں ملیر سے مفرور قیدی بیٹے کو جیل واپس لے آئی

منگل 3 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملیر جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش جاری ہے، مگر گزشتہ شب ایک حیران کن اور قابلِ تقلید واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک بیوہ ماں اپنے مفرور بیٹے کو خود جیل واپس لے آئی۔ معاشرتی بدحالی اور غربت کے باوجود، اس خاتون نے قانون کی پاسداری کا ایسا مظاہرہ کیا جو ایک مثال بن گیا۔

عبداللہ گوٹھ کی رہائشی بیوہ خاتون کا بیٹا غلام حسین، جو گزشتہ شب جیل سے فرار ہوا تھا، صبح 3 بجے کے قریب گھر پہنچا۔ جب اس نے والدہ کو بتایا کہ وہ جیل سے بھاگ آیا ہے، تو ماں نے بغیر کسی تردد کے فیصلہ کیا کہ اسے دوبارہ جیل حکام کے حوالے کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں زلزلے کے دوران ملیر جیل میں ہنگامہ، 200 سے زائد قیدی فرار

ماں نے میڈیا کو بتایا کہ بیٹے نے آ کر کہا کہ وہ جیل سے بھاگ آیا ہے، میں نے فوراً اسے سمجھایا کہ یہ غلط ہے، اور ہم قانون کو نہیں توڑ سکتے۔

بیوہ ماں کے پاس نہ پیٹ بھر کھانے کو کچھ تھا، نہ جیب میں کرایہ۔ مگر پھر بھی، صرف قانون سے محبت اور فرض کی ادائیگی کے جذبے کے تحت وہ 2 گھنٹے پیدل چل کر بیٹے کو ملیر جیل لے گئی اور جیل حکام کے سپرد کر دیا۔

جیل ذرائع کے مطابق غلام حسین کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے، اور اس واقعے کو دیگر مفرور قیدیوں کی تلاش کے دوران خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘