ملیر جیل سے فرار ہونے والےمزید 4 قیدی گرفتار، 68 تاحال مفرور

جمعرات 12 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کے اجتماعی فرار کے واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں، اور حوالے سے جاری کوششوں کے نتیجے میں مزید 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کتنے قیدی فرار ہوئے، ملیر جیل سپرنٹنڈنٹ نے نئی فہرست جاری کر دی

جیل حکام کا کہنا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 157 قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ 68 قیدی تاحال فرار ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

جیل حکام کے مطابق ملیر جیل سے مجموعی طور پر 225 قیدی فرار ہوئے تھے، جو ملکی تاریخ کے بدترین جیل بریک واقعات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے نہ صرف جیل کی سیکیورٹی پر سوالات کھڑے کیے بلکہ انتظامی غفلت اور اندرونی سہولت کاری کے شبہات بھی جنم دیے۔

حکام کے مطابق مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے پولیس اور دیگر اداروں نے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اور کئی قیدیوں کو ان کے آبائی گھروں یا قریبی رابطوں کے ذریعے تلاش کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار: دیواریں کمزور تھیں یا اہلکاروں نے غفلت برتی؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں جیل کی اندرونی سیکیورٹی کی سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، جن کی روشنی میں کئی افسران کو معطل یا ان کے خلاف تفتیش شروع کی جا چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘