صدیوں پرانی سیمابی آلودگی آرکٹک کی جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن گئی

ہفتہ 14 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی سطح پر سیماب کے، جسے پارہ بھی کہا جاتا ہے، اخراج میں کمی کے باوجود آرکٹک خطے کے جانوروں میں اس کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے، جو ان کی حیات کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔

ایک تازہ سائنسی تحقیق کے مطابق سمندری دھارائیں صدیوں پرانی مرکری آلودگی کو آرکٹک تک پہنچا رہی ہیں، جہاں اس کی مقدار میں کمی ہوتی نہیں دیکھی جارہی بلکہ اس کی زیادتی وائلڈ لائف کو سنجیدہ خطرات سے دوچار کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جانوروں اور پودوں کی بڑھتی اسمگلنگ جنگلی حیات کی معدومیت اور ایکو سسٹم کی بے بسی کا سبب

جرنل نیچر کمیونیکیشنزمیں حال ہی میں شائع شدہ یہ تحقیق آحس یونیورسٹی اور کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

تحقیق میں شامل آروس یونیورسٹی کے پروفیسر رونے ڈیٹز کے مطابق، ان کی ٹیم گزشتہ 40 برسوں سے آرکٹک کے جانوروں میں پارے مرکری کی نگرانی کر رہی ہے، اگرچہ 1970 کی دہائی سے دنیا بھر میں پارے کے اخراج میں کمی ہوئی ہے، مگر آرکٹک میں اس کی مقدار کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔

پارہ، جو عام طور پر کوئلہ جلانے اور سونے کی کان کنی سے خارج ہوتا ہے، فضا میں ایک سال تک موجود رہ سکتا ہے، مگر جب یہ سمندر میں شامل ہو جائے تو وہاں 300 سال تک برقرار رہ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:نائیجیریا میں جنگلی حیات کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا اعلان

تحقیق میں 40 سال کے دوران گرین لینڈ میں 700 سے زائد ماحولیاتی نمونوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں محققین نے ان علاقوں میں پارے کی مقدار میں فرق اور اس کے بہاؤ سے متعلق اہم شواہد اکٹھے کیے۔

آحس یونیورسٹی کے سینیئر محقق ینس سوندرگارڈ کے مطابق، پارے کے آئسوٹوپ دستخطوں کو ہم ‘فنگر پرنٹس’ کی طرح استعمال کرتے ہیں، جو اس کے ذرائع اور نقل و حرکت کے راستے ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سیماب قطبی ریچھوں اور دانتوں والے وہیل جیسے سمندری جانوروں کے اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے، صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اب پارے کی سطح ان جانوروں میں 20 سے 30 گنا زیادہ ہو چکی ہے، جو ان کے لیے شدید صحت کے خطرات کا سبب بن رہی ہے۔

مزید پڑھیں:سائنسدانوں نے 27 کے قریب جنگلی اور آبی حیات کی نئی اقسام دریافت کر لیں

پروفیسر رونے ڈیٹز کے مطابق، چین جیسے بڑے ذرائع سے سیماب یعنی پارے کا گرین لینڈ تک سمندری راستے سے پہنچنا 150 سال تک لے سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آرکٹک میں اس کی مقدار میں واضح کمی نظر نہیں آ رہی۔

یہ تحقیق گرین پاتھ نامی منصوبے کا حصہ ہے، جو آرکٹک میں مرکری آلودگی کے اثرات پر مسلسل کام کر رہا ہے، محققین اس آلودگی کے طویل مدتی ماحولیاتی اثرات کو سمجھنے اور اس کے تدارک کے لیے مزید تحقیق جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟