اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مگریشن (آئی او ایم) کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر نقل مکانی کرنے کے مختلف راستوں پر کم از کم 7,667 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ تمام واقعات کی مکمل نگرانی ممکن نہیں ہو پاتی۔
اگرچہ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں کم ہے، جب تقریباً 9,200 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اب بھی غیر قانونی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کو درپیش سنگین عالمی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔
’یہ اموات ناگزیر نہیں‘: آئی او ایم
آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا کہ ’ہجرت‘ کے راستوں پر جانوں کا مسلسل ضیاع ایک عالمی سطح کی ناکامی ہے جسے معمول کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق یہ اموات ناگزیر نہیں ہیں۔ جب محفوظ اور قانونی راستے دستیاب نہ ہوں تو لوگ خطرناک سفر اختیار کرنے اور اسمگلروں و انسانی اسمگلنگ کرنے والوں کے ہاتھوں میں جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں فوری طور پر محفوظ اور باقاعدہ راستوں کو وسعت دینی چاہیے تاکہ ضرورت مند افراد کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، چاہے ان کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو۔
سمندری راستے سب سے زیادہ جان لیوا
رپورٹ کے مطابق سمندری راستے بدستور مہاجرین کے لیے سب سے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ کم از کم 2,108 افراد 2025 میں بحیرۂ روم عبور کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔ مزید 1,047 افراد کینری جزائر جانے والے بحرِ اوقیانوس کے راستے میں جان سے گئے یا لاپتہ ہوئے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بھی ممکنہ طور پر اصل صورتحال سے کم ہے۔
ایشیا اور افریقہ کے راستوں پر بھی المیہ
ایشیا میں تقریباً 3,000 مہاجرین کی اموات ریکارڈ کی گئیں، جن میں نصف سے زیادہ افغان شہری تھے۔
اسی طرح یمن سے خلیجی ریاستوں کی جانب ہارن آف افریقہ کے راستے 922 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً تمام ایتھوپیائی شہری شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر 3 بڑے بحری حادثات میں جان سے گئے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف کا انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر پیغام
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امدادی تنظیموں کو وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی این جی اوز کے خلاف کریک ڈاؤن اور ڈیٹا تک محدود رسائی کے باعث اموات کی درست نگرانی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
جنیوا میں قائم آئی او ایم ان اداروں میں شامل ہے جو امریکی فنڈنگ میں بڑی کٹوتیوں سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث کئی پروگرام محدود یا بند کرنا پڑے۔
2026 کے آغاز میں بھی تشویشناک صورتحال
آئی او ایم کے مطابق 2026 کے پہلے 2 مہینوں میں بھی صورتحال غیر معمولی رہی۔ 24 فروری تک صرف بحیرۂ روم میں 606 افراد ہلاک ہو چکے تھے، حالانکہ اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ قانونی ہجرت کے راستے تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ لوگ اسمگلروں کے رحم و کرم پر ہیں، جبکہ یورپ، امریکا اور دیگر خطے سرحدی نگرانی سخت کرنے اور روک تھام پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
آئی او ایم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مہاجرین کے تحفظ کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کیے جائیں، تاکہ مزید جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔













