برطانیہ میں ہاؤس آف کامنز نے ایک ایسے بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت کسی مہلک بیماری کے آخری اسٹیج پر موجود مریضوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ تکالیف سے بچنے کے لیے اپنے لیے موت کا انتخاب کرسکیں۔
موت کے انتخاب کی یہ منظوری ڈاکٹرز اور دیگر ماہرین پر مشتمل ایک پینل سے حاصل کی جائے۔ یہ بل، جسے لیبر پارٹی کی ایک ممبر نے نومبر میں پیش کیا تھا، مہلک امراض میں ناقابل برداشت تکالیف سے دوچار ہونے والے مریضوں کو چھٹکارہ دینے کے لیے پاس کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سال 2029 تک ایڈز سے مزید 40 لاکھ افراد کی موت کا خدشہ، وجہ کیا ہے؟
تاہم اسے قانون کا درجہ حاصل کرنے سے پہلے ہاؤس آف لارڈز میں بھی پاس ہونا پڑے گا۔ اس بل کی کچھ ایم پیز سمیت کئی مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے بعض کارکنوں نے مخالت بھی کی ہے۔
اس بل کے اخلاقی پہلوؤں پر قانون سازوں کی رائے منقسم رہی، ہاؤس آف کامنز میں اس کے حق میں 316 جبکہ اس کے خلاف 291 ووٹ پڑے۔














