کراچی کے علاقے معروف علاقے لیاری میں بغدادی محلے میں 5 منزلہ عمارت گر گئی، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
کراچی کے علاقے لیاری میں بغدادی کے فداحسین شیخا روڈ پر ایک 5 منزلہ عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کا مکمل ڈھانچہ منہدم ہو چکا ہے، جس کے بعد علاقے میں ریسکیو آپریشن فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔
A five-storey building has collapsed within the jurisdiction of Lyari Baghdadi Police Station. Rescue teams and police are present at the scene . PS BAGHDADI KARACHI pic.twitter.com/lCiabrVb2e
— Samar Abbas (@Samarjournalist) July 4, 2025
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے 25 سے زائد افراد کے دبے ہونے کی اطلاع ہے، منہدم ہونیوالی اس عمارت میں حادثے کے وقت 12 خاندان مختلف فلیٹوں میں رہائش پذیر تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریسکیو حکام نے منہدم عمارت کے ملبے سے 6 افراد کو زخمی حالت میں نکال لیا ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں اسپتال حکام کے مطابق 6 افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے، اسپتال میں 4 لاشیں اور 8 زخمی لائے گئے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ان میں سے ایک زخمی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ باقی 5 کو معمولی زخم آئے ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔
ٹراما سینٹر سول میں 32 سالہ پریم، 35 سالہ وسیم، 55 سالہ حور بائی اور 21 سالہ پرانتک کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا جبکہ 55 سالہ فاطمہ دوران علاج تشویشناک حالت میں جانبحق ہوگئی۔
ریسکیو اور پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے ساتھ تلاش کا عمل جاری ہے۔
واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے تحقیقاتی ادارے بھی حرکت میں آ گئے ہیں جبکہ عمارت کے تعمیراتی معیار اور ممکنہ غفلت کی چھان بین کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: شاپنگ مال میں اچانک خوفناک آگ، عمارت شعلوں کی لپیٹ میں
واقعے کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے علاقے کا دورہ کیا اور 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اب تک 8 افراد کو نکالا گیا ہے۔
میئر کراچی نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ عمارت کو پہلے سے ہی مخدوش قرار دیا گیا تھا، انتظامیہ نے 3 یا 4 نوٹسز مکینوں کو دی تھی اور بجلی بھی منقطع کی تھی لیکن مکینوں کے لیے متبادل جگہ ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے اس لیے انہوں نے بلڈنگ خالی نہیں کی۔
دوسری طرف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے کہا ہے کہ گرنے والی عمارت کے اطراف میں موجود دوسری عمارتوں کے بھی گرنے کا خدشہ ہے، جنوبی لیاری میں 1107 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔














