جاپان میں فروخت ہونے والی آئس کریم کی قیمت 19 لاکھ روپے: خاصیت کیا ہے؟

اتوار 7 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 جاپان میں دنیا کی سب سے مہنگی آئس کریم لوگوں کو فروخت کی جا رہی ہے جس کی قیمت 6700 امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی روپوں میں 19 لاکھ روپے کی رقم بنتی ہے۔

جاپان میں’بیاکویا سیلاٹی‘ نامی دکان پر یہ آئس کریم بنائی جاتی ہے جس میں دودھ، پنیر، انڈے کی زردی سمیت دیگر اشیا شامل کی جاتی ہیں۔

آئس کریم تیار کرنے کے بعد اس پر میگیانو پنیر ڈالا جاتا ہے اور اس کو کھانے کے لیے ہاتھ سے بنایا گیا چمچ بھی فراہم کیا جاتا ہے اور اسے آئس کریم کے ساتھ ایک سیاہ ڈبے میں رکھا جاتا ہے۔

یہ چمچ بھی جاپانی کاریگر نے بنایا ہے جو نسل درنسل اپنے کام کو آگے بڑھارہے ہیں۔ یہ ماہر جاپانی مندر اور عبادت گاہوں میں تزئین و آرائش کا کام کرتے ہیں۔

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ جاپان میں ایک ایسا شہر بھی ہے جسے آئس کریم کا دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ جاپانی شہر کانازاوا کی خاصیت یہ  ہے کہ یہاں آئس کریم پگھلتی نہیں اسی بنیاد پر اس شہر کو آئس کریم کا دارالحکومت کہا جاتا ہے۔

آپ بھی کبھی اس شہر کا رخ کریں تو یہاں آکر آئس کریم کے ہزاروں ذائقوں سے لطف اندوز ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ میں غربت کی انتہا: نئی تصویر سامنے آ گئی، بنگلہ دیشی اور پاکستانی کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر

ٹک ٹاک سوشل میڈیا ایڈکشن کیس میں تصفیہ، میٹا اور یوٹیوب کیخلاف تاریخی مقدمہ جاری

گیس سیکٹر پر بڑھتا دباؤ، انڈرگراؤنڈ گیس اسٹوریج منصوبے کی جانب پیشرفت

’ایران کے خلاف سعودی سرزمین استعمال نہیں ہونے دی جائے گی‘، سعودی عرب کا واضح مؤقف

امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر حملہ، مشتبہ شخص گرفتار

ویڈیو

امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز پہنچ گیا، ایران کا بھی فوجی مشقوں کا اعلان، سعودی عرب کا فضائی حدود دینے سے انکار

کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ شائقینِ کرکٹ کی مختلف آرا

پاکستان کے حسن کو دریافت اور اجاگر کرنے کے عزم کیساتھ میاں بیوی کا پیدل سفر

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟