سیف علی خان 15 ہزار کروڑ کی جائیداد سے محروم ہو جائیں گے؟

اتوار 6 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالی وُڈ اداکار سیف علی خان اور ان کے خاندان کو مدھیہ پردیش ہائیکورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے، جہاں 15 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد سے متعلق وراثتی مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کا 2000 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کو نئے سرے سے سننے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ فیصلہ ایک سال کے اندر کیا جائے۔

یہ جائیدادیں بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان سے تعلق رکھتی ہیں، جن کی بیٹی ساجدہ سلطان سیف علی خان کی دادی تھیں۔ حکومت ہند نے ان جائیدادوں کو ’اینیمی پراپرٹی‘ قرار دیا کیونکہ نواب کی بڑی بیٹی عابدہ سلطان پاکستان چلی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: سیف علی خان کا بیٹا ابراہیم بچپن ہی سے کس اداکارہ کو دیکھنے کے مواقع ڈھونڈتا تھا؟

سیف علی خان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ جائیداد ساجدہ سلطان کی ملکیت ہے اور اسے دشمن کی جائیداد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے اس فیصلے سے سیف علی خان کے وراثتی دعوے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اینیمی پراپرٹی ایکٹ کے تحت یہ جائیدادیں مکمل طور پر ریاستی تحویل میں جا سکتی ہیں۔

مسلم پس منظر میں تاریخی رنجشیں، سیاسی پیچیدگیاں اور وراثت کا تنازع اس مقدمے کو بھارتی عدالتی تاریخ کے دلچسپ ترین مقدمات میں شامل کرچکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 27 مارچ کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا

ڈیپ فیک کی دنیا: لوگ تشکیک کا شکار،شناخت کی تصدیق کا مؤثر طریقہ کیا؟

مشرق وسطیٰ کشیدگی: وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر کی ٹیلیفونک گفتگو، رابطے میں رہنے پر اتفاق

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سندھ کابینہ کے اراکین 3 ماہ کی تنخواہوں سے دستبردار، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں معطل

چین میں بیلٹ اینڈ روڈ اسکالرشپ ایوارڈ تقریب، پاکستانی سفیر کی شرکت، طلبہ کو اعزازات سے نوازا

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ