کراچی کی کلِفٹن بیچ پر ایک غیر معمولی اور حیران کن قدرتی منظر اُس وقت دیکھنے کو ملا جب ساحل پر لاکھوں زندہ سیپ (Oysters) اچانک اُمڈ آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ساحل کی ریت پر ہر طرف چمکتے ہوئے خول بکھرے ہوئے تھے، جن میں سے کئی ابھی تک زندہ تھے اور حرکت کررہے تھے۔
یہ منظر دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد ساحل پر جمع ہو گئی، جنہوں نے سیپوں کے خول جمع کیے اور اس غیر معمولی واقعے کو اپنے موبائل کیمروں میں محفوظ کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ واقعہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا اور تصاویر و ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوات کی روایتی خوراک گونگڑی میں خاص کیا ہے؟
ماہرینِ حیاتیات کے مطابق یہ مظاہرہ غیر معمولی سمندری لہروں اور ہوا کے رخ میں اچانک تبدیلی کی وجہ سے پیش آیا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر، معظم خان کے مطابق تیز ہواؤں نے سمندر کی تہہ میں موجود سیپوں کو اُن کے قدرتی مسکن سے اکھاڑ کر ساحل تک پہنچا دیا۔

معظم خان نے وضاحت کی کہ اگرچہ عام طور پر آلودگی کی وجہ سے سیپ ہلاک ہوجاتے ہیں، لیکن اس موقع پر زندہ سیپوں کی بڑی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ قدرتی لہروں کا نتیجہ تھا، نہ کہ آلودگی کا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان سیپوں میں بڑی تعداد میں ’بلڈ کلیمز‘ین حیران بھی شامل تھے، جو سمندری بائیوالو (دو خول والے) جانوروں کی ایک قسم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیونا مچھلی چھ کروڑ سے زائد میں فروخت
واقعے کے بعد کلِفٹن کنٹونمنٹ بورڈ نے فوری صفائی مہم شروع کر دی اور بھاری مشینری کے ذریعے سیپوں کی باقیات کو ہٹانے کا کام جاری رکھا۔ گرمی کے باعث جب یہ مخلوق مرنے لگی تو تیز بدبو نے ماحول کو متاثر کیا، جس پر بروقت اقدامات کیے گئے۔
واضح رہے کہ سیپ سمندری خول دار جاندار ہوتے ہیں جن کا گوشت کئی ایشیائی ممالک، جیسے تھائی لینڈ، چین، کوریا، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں لذیذ خوراک سمجھا جاتا ہے۔ بعض اقسام جیسے کہ پرل اویسٹر، نایاب طور پر قدرتی موتی بھی پیدا کرتی ہیں، جو زیورات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
عموماً دنیا بھر کے ساحلوں پر سیپ کے خالی خول ملتے ہیں، لیکن اس بار کلِفٹن کے ساحل پر زندہ سیپوں کی بھرمار نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مظاہرہ ایک نایاب اور قابلِ مطالعہ قدرتی واقعہ ہے۔














