نوبیل امن انعام کون جیت سکتا ہے اور فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

بدھ 9 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نوبیل امن انعام دنیا کا سب سے معزز عالمی اعزاز ہے جو ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے دنیا میں امن، بھائی چارے اور قوموں کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے نمایاں کام کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا

سال 2024 کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نامزد کیا ہے۔ اگر ٹرمپ یہ انعام جیت لیتے ہیں تو وہ امریکا کے پانچویں صدر ہوں گے جنہیں نوبیل امن انعام دیا گیا، ان سے پہلے تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر اور باراک اوباما اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔

کون جیت سکتا ہے؟

نوبیل انعام کے بانی، سویڈش صنعت کار الفریڈ نوبیل، جنہوں نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا، اپنی وصیت میں لکھ چکے ہیں کہ یہ انعام اُس شخص کو دیا جانا چاہیے جس نے اقوام کے درمیان دوستی کو فروغ دیا ہو، جنگی افواج کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہوں، یا امن کے قیام اور فروغ کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا ہو۔

نوبیل کمیٹی کے موجودہ چیئرمین یورگن واتنے فریدنیس کے مطابق عملی طور پر دنیا کا کوئی بھی فرد یہ انعام جیت سکتا ہے، اور ماضی کی فہرست اس بات کی واضح مثال ہے کہ یہ انعام مختلف طبقوں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیا گیا ہے۔

کون نامزد کر سکتا ہے؟

ہزاروں افراد نوبیل انعام کے لیے کسی کو بھی نامزد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان میں حکومتوں اور پارلیمان کے ارکان، موجودہ سربراہانِ مملکت، جامعات کے پروفیسرز (جو تاریخ، سماجی علوم، قانون یا فلسفہ پڑھاتے ہوں)، اور پچھلے نوبیل انعام یافتہ افراد شامل ہیں۔ البتہ کوئی بھی شخص خود کو نامزد نہیں کر سکتا۔

اگرچہ نوبیل کمیٹی نامزدگی کی فہرست کو 50 سال تک خفیہ رکھتی ہے، مگر جن لوگوں نے کسی کو نامزد کیا ہوتا ہے وہ خود چاہیں تو اس کا اعلان کر سکتے ہیں، جیسا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے لیے کیا۔

فیصلہ کون کرتا ہے؟

نوبیل امن انعام کا فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی کرتی ہے جس میں پانچ افراد شامل ہوتے ہیں جنہیں ناروے کی پارلیمنٹ نامزد کرتی ہے۔ یہ اراکین عموماً ریٹائرڈ سیاستدان ہوتے ہیں، لیکن ضروری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نوبیل امن انعام اکثر ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جنہیں عوام جانتے بھی نہیں، صدر ٹرمپ

موجودہ کمیٹی کی سربراہی ناروے کے “پین انٹرنیشنل” کے صدر کر رہے ہیں، جو آزادیٔ اظہار کی عالمی تنظیم ہے۔ کمیٹی کے ارکان کا انتخاب ناروے کے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی تناسب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

نوبیل انعام کے لیے نامزدگیوں کا عمل ہر سال 31 جنوری کو مکمل ہوتا ہے، اس لیے نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کی نامزدگی اس سال کے لیے قابلِ غور نہیں۔ کمیٹی کی فروری میں ہونے والی پہلی میٹنگ تک، خود کمیٹی کے ارکان بھی اپنے امیدوار نامزد کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد کمیٹی ایک مختصر فہرست تیار کرتی ہے، جس کے ہر امیدوار کا تفصیلی جائزہ مستقل مشیروں اور موضوعاتی ماہرین کی مدد سے لیا جاتا ہے۔ کمیٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ فیصلہ متفقہ ہو، لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو اکثریتی ووٹ سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انعام کے اعلان سے صرف چند دن پہلے ہی حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

تنازعات

نوبیل امن انعام اکثر سیاسی پیغام سمجھا جاتا رہا ہے، اور بعض اوقات ایسے افراد کو بھی انعام دیا گیا ہے جن پر شدید اعتراضات ہوئے۔ نوبیل ویب سائٹ بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بعض انعام یافتگان ’سیاسی طور پر متنازع شخصیات‘ تھیں۔

مثال کے طور پر 2009 میں باراک اوباما کو صرف چند ماہ بعد انعام دیا گیا، جس پر دنیا بھر میں سوالات اٹھے۔ 1973 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور ویتنامی رہنما لی ڈک تھو کو ویتنام جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر انعام دیا گیا، جس پر نوبیل کمیٹی کے دو اراکین نے استعفیٰ دے دیا۔ اسی طرح 1994 میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات، اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن اور شمعون پیریز کو مشترکہ انعام دیا گیا، جس پر بھی ایک رکن مستعفی ہو گیا۔

نوبیل انعام میں کیا ملتا ہے؟

نوبیل امن انعام جیتنے والے شخص یا ادارے کو ایک طلائی تمغہ، ایک خوبصورت ڈپلوما، 11 ملین سویڈش کراؤن (تقریباً 1.15 ملین امریکی ڈالر)، اور اگر پہلے سے مشہور نہ ہوں تو بین الاقوامی سطح پر فوری شہرت حاصل ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن