اسرائیل کا متنازع منصوبہ: غزہ کے 6 لاکھ شہریوں کی جبری نقل مکانی کا انکشاف

بدھ 9 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے وزیر دفاع یواف گیلنٹ کی جانب سے غزہ کے شہریوں کی جبری نقل مکانی سے متعلق منصوبے نے شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیتن یاہو وائٹ ہاؤس سے خاموشی سے روانہ، غزہ مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی

منصوبے کے تحت جنوبی غزہ میں ایک مخصوص علاقہ، جسے ’ہیومینٹیری سٹی‘ کا نام دیا گیا ہے، قائم کیا جائے گا جہاں تقریباً 6 لاکھ افراد کو منتقل کیا جائے گا۔بعدازاں انہیں ’رضاکارانہ طور پر‘ کسی تیسرے ملک منتقل ہونے کی پیشکش دی جائے گی۔

اگرچہ اسرائیلی حکام اس عمل کو رضا کارانہ نقل مکانی قرار دے رہے ہیں، مگر ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ حالات اور شہریوں کے پاس متبادل نہ ہونے کی وجہ سے یہ جبری نقل مکانی کے زمرے میں آتا ہے، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جرم کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ جنگ: اسرائیلی فوجی بدترین نفسیاتی مسائل سے دوچار، 43 فوجیوں کی خودکشی

اس منصوبے کی تفصیلات مختلف میڈیا ذرائع سے سامنے آئی ہیں، جس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے معروف بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم BCG کی خدمات بھی حاصل کی ہیں تاکہ اس منصوبے کو بہتر انداز میں تشکیل دیا جا سکے۔

تاہم اسرائیلی فوج نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ غزہ کی وسیع پیمانے پر آبادی کو بے دخل کرنے کے کسی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے بھی اس منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے تحت غزہ کی 80 فیصد آبادی کو ان علاقوں میں محدود کیا جا رہا ہے جنہیں اسرائیل ’ملٹری زون‘ قرار دے چکا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان علاقوں میں رہائش رکھنا خطرے سے خالی نہیں، اور اس منصوبے کو ممکنہ نسل کشی یا نسلی صفائی کے زمرے میں بھی شمار کیا جا رہا ہے۔

سابق اسرائیلی سفارت کار اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف قانونی بلکہ عملی لحاظ سے بھی غیر موزوں ہے۔

اسرائیل کے بعض فوجی ریزرو افسران نے اس منصوبے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے عدالت میں درخواست بھی دائر کر دی ہے، جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ غزہ کے باشندوں کو ان کی مرضی کے بغیر بے دخل کرنا ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز

ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ جیسے محدود اور جنگ زدہ علاقے میں ایسی کسی بھی پالیسی کو رضا کارانہ قرار دینا حقیقت سے منافی ہے۔ شہریوں کو ایسے حالات میں کسی متبادل کے بغیر علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنا بین الاقوامی سطح پر قابل گرفت جرم تصور کیا جاتا ہے۔

ان تمام تحفظات کے باوجود، اسرائیلی حکومت کے بعض حلقے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اسرائیل کو سخت ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

مچل اسٹارک آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار، دسمبر 2025 کا اعزاز آسٹریلوی فاسٹ بولر کے نام

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر سابق پی ٹی آئی رہنما کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘