عمران خان کے بیٹے پاکستان آئے تو ان کا کیا انجام ہوگا؟ رانا ثنااللہ نے خبردار کردیا

بدھ 9 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان آ کر پی ٹی آئی کی تحریک میں حصہ لیا تو وہ گرفتار ہوں گے اور  پھر برطانیہ کی ایمبیسی ہی انہیں بازیاب کرائے گی۔

رانا ثناء اللہ کے بیان کے بعد پی ٹی آئی کے حامی صارفین اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آئے۔ فیاض شاہ نے سوال کیا کہ عمران خان کے بیٹوں کو کس جرم میں اور کس قانون کے تحت گرفتار کیا جائے گا؟

سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ ایک پُر امن تحریک کو وقت سے پہلے پُر تشدد تحریک کہنا اور عمران خان کے بیٹوں کی گرفتاری کی دھمکی دینا یہی ثابت کرتا ہے کہ ن لیگ رانا ثناء اللہ جیسے انتشاریوں پر مشتمل ایک مافیا ہے جس نے پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف اگر پُر تشدد جماعت ہوتی تو پچھلے 3 سالوں میں اپنے پیاروں کے درجنوں جنازے نہ اٹھاتی، پاکستان کسی مافیا کے باپ کی جاگیر نہیں یہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے جہاں پر امن احتجاج اور کسی بھی عوامی تحریک کا حصہ بننا ہر پاکستانی کا حق ہے۔

ملیحہ ہاشمی لکھتی ہیں کہ حکومت ابھی سے عمران خان کے بیٹوں سے خوفزدہ ہو گئی ہے۔

عبید بھٹی نے کہا کہ کل اگر رانا ثناء اللہ پر کوئی مدعا ڈالا گیا اور ان کی رہائی کے لیے ان کی اہلیہ باہر نکلیں تو وہ بھی اسی روایت کے تحت گرفتار ہوں گی۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان نے ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔

عمران خان نے سماجی رابطوں کی سائیٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ  ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا، 5 اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلمان پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp