کراچی میں اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ملنے کے واقعے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ گھر والوں کو ان کے گھر کا پتا معلوم نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حمیرا اصغر کے چچا محمد علی نے کہا ہے کہ ہمیں کراچی میں حمیرا اصغر کے گھر کا پتا نہیں تھا۔
انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمیرا جب بھی لاہور آتی تھی گھر ضرور آتی تھی اور ہمارا حمیرا کے ساتھ فون پر رابطہ ہوتا تھا لیکن ہمیں کراچی میں ان کے گھر کا نہیں پتا تھا۔ وہ 2018 میں کراچی چلی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: اداکارہ حمیرا اصغر نے فلیٹ کا آخری کرایہ کب ادا کیا؟
حمیرا اصغر کے چچا محمد علی نے کہا کہ فون بند ہونے پر حمیرا سے کوئی رابطہ نہ کر سکے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے حمیرا کے ساتھ رابطے نہ ہونے کی اطلاع کسی کو دی یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حمیرا اصغر کے والدین اپنی بیٹی کے اس فیصلے سے خوش نہیں تھے کہ وہ شوبز میں کام کریں تاہم حمیرا اس کام میں خوش تھیں۔
واضح رہے کہ اداکارہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آچکی ہے، جس کے مطابق ان کی موت 8 سے 10 ماہ قبل ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اداکارہ کے جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں پائی گئی جبکہ نچلے جسم کا گوشت مکمل طور پر گل چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: اداکارہ حمیرا اصغر کی نمازِ جنازہ اور تدفین آج لاہور ہوگی
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوزیشن کے آخری مرحلے میں تھی اور اس میں کچھ کیڑے بھی موجود تھے۔لاش کی حالت اس قدر خراب تھی کہ اس سے کسی بھی قسم کی جسمانی زیادتی یا تشدد کے شواہد کا تعین ممکن نہیں رہا۔












