اسرائیلی عدالت، فوج اور آبادکار؛ فلسطینیوں کو بےدخل کرنے کی مشترکہ حکمت عملی

ہفتہ 12 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جون کے آخر میں اسرائیلی فوجیوں نے محمد یوسف کے ہاتھ پیچھے باندھ کر اُسے مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے مسافر یطا کے قریب ایک فوجی کیمپ میں گھسیٹ کر لے گئے۔ محمد کے ساتھ اُس کی والدہ، بیوی اور دو بہنیں بھی تھیں، جنہیں مسلح اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف احتجاج کرنے پر ان کی زمین سے گرفتار کیا گیا۔

یہ آبادکار اکثر فلسطینی زمین پر اپنے مویشی چراتے ہیں تاکہ اپنی بالادستی قائم کر سکیں اور غیرقانونی بستیوں کی بنیاد ڈال سکیں۔ محمد یوسف نے جب مسلح آبادکاروں کو اپنی زمین پر دیکھا تو اپنی کھیتی باڑی بچانے کی کوشش کی، مگر سزا اسے اور اُس کے خاندان کو ملی۔

فوجی کیمپ میں اُنہیں شدید گرمی میں گھنٹوں کھلے آسمان تلے رکھا گیا، اگلے دن اگرچہ اُنہیں رہا کر دیا گیا، مگر محمد اور اُس کا خاندان بےبس اور غیرمحفوظ محسوس کر رہا ہے۔ ’پولیس، فوج اور آبادکار اکثر اکٹھے حملہ کرتے ہیں، ہم کیا کریں۔‘

زمین چھیننے کا جواز

اب صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، اسرائیلی حکومت نے 17 جون کو اسرائیلی عدالتِ عالیہ میں ایک خط جمع کروایا جس میں فوج نے مسافر یطا کی کم از کم 12 دیہات کو مسمار کرنے اور وہاں کے باسیوں کو نکالنے کی درخواست کی، فوج کا مؤقف ہے کہ یہ علاقہ فوجی مشقوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

تاہم اسرائیلی سول سوسائٹی ادارے کیرم نووت کی 2015 کی ایک تحقیق کے مطابق، یہ محض فلسطینی زمین پر قبضے کا بہانہ ہے، رپورٹ کے مطابق 1967 سے اب تک اسرائیل نے مغربی کنارے کے تقریباً ایک تہائی حصے کو فوجی علاقہ قرار دیا ہے، لیکن ان میں سے 80 فیصد میں کبھی کوئی مشق نہیں ہوئی۔

تحقیق کے مطابق یہ حکمت عملی فلسطینیوں کو اُن کی زمین سے بےدخل کرنے اور آبادکاروں کو زمین منتقل کرنے کی غرض سے اپنائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ محمد یوسف کو خدشہ ہے کہ اُس کا گاؤں بھی اسی انجام سے دوچار ہو گا۔

’ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ اب کیا ہوگا۔ اگر ہمیں نکال دیا گیا تو ہم کہاں جائیں گے۔‘

غیرمنصفانہ عدالتی نظام

’فائرنگ زون 918‘ کے نام سے معروف اس علاقے میں فلسطینیوں کے انخلا کا خطرہ برسوں سے منڈلا رہا ہے، 1999 میں یہاں کے باشندوں کو پہلی بار انخلا کا نوٹس دیا گیا تھا، حالانکہ یہ دیہات اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے سے آباد ہیں۔

مقامی وکلا نے عدالتی جنگ کے ذریعے انخلا کو روکنے کی کوشش کی، 2000 میں عدالت نے انہیں وقتی طور پر واپس آنے کی اجازت دی مگر 2022 میں عدالت نے یہ کہتے ہوئے کہ یہاں کے رہائشی ’مستقل باشندے‘ نہیں 8 دیہات کو خالی کرانے کا حکم دے دیا۔

وکیل نیٹا امر شف نے بتایا کہ انہوں نے عدالت میں قدیم اوزار، تصاویر اور دیگر شواہد پیش کیے، مگر عدالت نے سب مسترد کر دیا۔

مکانات کی مسماری میں تیزی

2023 کے اوائل میں وکلا نے فوجی مشقوں کے دوران کم از کم دیہات مسمار نہ کرنے کی درخواست دی، مگر حالیہ دنوں میں فوج اور حکومت نے اس عمل کو تیز کر دیا ہے، 18 جون کو اسرائیلی سول پلاننگ بیورو نے ’فائرنگ زون 918‘ میں زیر التوا تمام فلسطینی تعمیراتی درخواستیں مسترد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ فیصلہ ’نسلی صفائی‘ کو آسان بنانے کے لیے کیا گیا ہے، اب وکلا کو سپریم کورٹ میں دوبارہ اپیل کرنا ہو گی، جس کا فیصلہ چند مہینوں میں متوقع ہے۔

ادھر، اسرائیلی آبادکاروں اور فوج کی جانب سے مقامی فلسطینیوں پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیم ’الحق‘ کے محقق سامی حورانی کے مطابق، فوج نے درجنوں گاڑیاں ضبط کر لی ہیں، کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور آبادکاروں کو فلسطینیوں کو بےدخل کرنے میں مدد دی جا رہی ہے۔

’ہم مکمل محاصرے کی حالت میں ہیں، اور کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر مسماری کا خدشہ ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp