حکومت کا ایف سی کو فیڈرل کانسٹیبلری کے نام سے ملک گیر فورس بنانے کا فیصلہ

اتوار 13 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو ملک گیر فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو ملک گیر وفاقی فورس میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 24نومبر پی ٹی آئی احتجاج، رینجرز اور ایف سی کے 9ہزار اہلکاروں کی خدمات طلب

رپورٹ کے مطابق اس پر فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وفاقی کابینہ کی طرف سے فرنٹیئر کانسٹیبلری ایکٹ 1915 میں ترامیم کی منظوری کے بعد پورے پاکستان میں ایف سی کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا جائے گا۔

ایف سی کا نام تبدیل کرکے فیڈرل کانسٹیبلری رکھا جائے گا جبکہ داخلی امن و امان قائم رکھنے کے لیے اس کا دائرہ اختیار چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بڑھایا جائے گا۔

ایف سی خیبر پختونخوا میں داخلی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹتی ہے

واضح رہے کہ فی الوقت ایف سی کی تعیناتی صرف خیبرپختونخوا کی حد تک ہوتی ہے جبکہ اس فیڈرل کانسٹیبلری بنننے کے بعد اس میں ملک بھر سے نوجوان بھرتی کیے جائیں گے اور اس کی قیادت پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ

راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں قید کی سزا، کروڑوں روپے ادا کرنے کا حکم

چین کا دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ کا کامیاب تجربہ، خلائی دوڑ میں اہم پیشرفت

2 روزہ خونریز جھڑپوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان بندوقیں خاموش، سفارتی کوششیں دوبارہ تیز

بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سید علی گیلانی سمیت 6 حریت رہنماؤں پر 27 سالہ پرانے مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی

ویڈیو

اسلام آباد مینگو فیسٹیول: آموں کی بہار، شہریوں کا زبردست رش

خیبر پختونخوا: ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں اضافے کی قانون سازی پر شدید عوامی ردعمل

استحکام پاکستان پارٹی وفاقی سیاسی قوت، عمران خان کے برعکس علیم خان کام زیادہ اور باتیں کم کرتے ہیں، گل اصغر خان

کالم / تجزیہ

خارجی عفریت اور ہمارا فکری محاذ

کفالت نہیں، خود انحصاری

فتنۂ الخوارج کا بہیمانہ اندازِ قتل و قتال، جہاد یا حیوانیت..؟