’ایئر انڈیا کی ٹکٹ لو اور واپس جاؤ‘، سکھ فار جسٹس کی کینیڈین ہندو کمیونٹی پر تنقید

منگل 15 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سکھ فار جسٹس (SFJ) نے کینیڈا میں ہندو برادری کی جانب سے رتھ یاترا پر انڈہ پھینکے جانے کے واقعے پر اٹھنے والے احتجاج کو ’جھوٹے مظلوم بننے کی منظم مہم‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم نے ہردیپ سنگھ نِجّر کی ٹارگٹ کلنگ پر مکمل خاموشی برتنے پر انڈو کینیڈین ہندو کمیونٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایس ایف جے کے قانونی مشیر گُرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ یہ صرف انڈہ تھا، بم نہیں۔ مگر انڈو کینیڈین ہندو کمیونٹی کا اصل غصہ انڈے پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ مودی کے ہندو ستان سے اپنی وفاداری چھپانا چاہتے ہیں۔

پنوں نے انڈو کینیڈین ہندو شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مودی کے بھارت کی حمایت کرتے ہیں تو اپنا سامان باندھیں، ایئر انڈیا کی فلائٹ لیں، اور واپس ہندو ستان چلے جائیں۔ آپ کی وفاداری کینیڈا کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔

مزید پڑھیں: سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا امریکا سے بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

انہوں نے الزام لگایا کہ کینیڈا میں ہندو تنظیمیں ملک کو ہندو مخالف قرار دینے کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں، مگر وہ بھارت کی جانب سے کینیڈا میں کی جانے والی مبینہ دہشتگردی پر خاموش ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Sikhs For Justice (@sikhsforjustice)

گُرپتونت کا دعویٰ ہے کہ ہردیپ سنگھ نِجّر کی ہلاکت پر نہ صرف انڈو کینیڈین ہندو برادری خاموش رہی بلکہ بعض افراد نے آن لائن اس قتل پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔

ایس ایف جے نے اس تنازع کو 1984 کے سکھ قتل عام سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہی نظریہ آج کینیڈا میں مذہبی اشتعال پیدا کر رہا ہے، جب کہ اُس وقت دہلی میں ہندو ہجوموں نے سکھوں کو زندہ جلایا، گلے میں ٹائر ڈالے اور پیٹرول بم استعمال کیے تھے۔

مزید پڑھیں: ’را‘ کو غیرملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیا جائے، سکھوں نے امریکا سے بڑا مطالبہ کردیا

پنوں کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کی حکومت دانستہ طور پر کینیڈا میں ہندو کمیونٹی کو وزیراعظم کارنی کی حکومت سے ٹکراؤ کی جانب دھکیل رہی ہے، تاکہ ہندوتوا کا پرتشدد سیاسی ماڈل برآمد کیا جا سکے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا میں سکھ ہندو کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور نِجّر کے قتل کے بعد دونوں برادریوں میں گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ کینیڈین حکومت تاحال اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے، تاہم ایس ایف جے جیسے گروپس ان واقعات کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp