شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بھارت کی عدم شرکت بارے شکوک کیوں پیدا ہوئے؟

منگل 15 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے 5 سال بعد 15/14 جولائی کو چین کا دورہ کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی۔ بنیادی طور پر 2020 سے بھارت اور چین کے درمیان لداخ گولوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد سے کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس سال 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان سے جنگ میں ہزیمت اُٹھانے کے بعد بھارت نے چین پر شدید تنقید کی اور بھارت کی جانب سے پاکستان کی فوجی پشت پناہی اور رئیل ٹائم ڈیٹا فراہم کرنے کے الزامات لگائے گئے۔

اسی تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس جو چین کے شہر تیانجن میں منعقد ہورہا ہے اُس میں بھارت کی شرکت مشکوک ہوگئی تھی جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بھارتی وزارت خارجہ نے شرکت کے بارے میں قدرے تاخیر سے آگاہ کیا لیکن بھارت نے اس اجلاس میں شرکت کی حامی بھری جس کے بعد بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر چین کے دورے پر گئے۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کی ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت، بھارت نے بیان سے دوری اختیار کرلی

اس سے قبل 25 اور 26 جون کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے دفاع اجلاس میں شرکت کی تھی لیکن بھارت کی وجہ سے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو پایا کیوں کہ بھارت کا اِصرار تھا کہ اعلامیے میں پاکستان کو دہشتگردی پر موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔

چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران اور وسط ایشیائی ممالک پر مشتمل اس 10 رُکنی اہم شنگھائی تعاون تنظیم کے پچھلے اجلاسوں میں بھارت کا کرادار محدود اور احتجاجی رویہ رہا خاص طور پر جب دہشتگردی کا ذکر پاکستان یا چین کے مؤقف سے قریب تھا۔

’جون اور جولائی بھارتی سفارتی ناکامیوں کی داستان‘

گزشتہ ماہ جون اور پھر جولائی میں بھارت کو سفارتی محاذ پر پے در پے ہزیمتیں اُٹھانا پڑیں۔ پہلی ہزیمت 25 اور 26 جون کو اُس وقت اُٹھانا پڑی جب چین کے شہر چنگڈو میں شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے دفاع اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں بھارت کے اِصرار کے باوجود پاکستان کو دہشتگردی کے لیے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا اور اِسی وجہ سے مشترکہ اجلاس کا اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔

اس کے بعد 4 ممالک کی تنظیم کوآڈ کے یکم جولائی کو واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کے اعلامیہ میں بھی بھارت کے اِس مؤقف کو اہمیت نہیں دی گئی اور پھر 6 اور 7 جولائی کو بِرکس اجلاس میں ایک بار پھر بھارت اپنے اس مؤقف کو مشترکہ اعلامیے میں شامل نہیں کروا سکا۔

ان تینوں عالمی تنظیموں کے اجلاس میں بھارت نے اِصرار کیاکہ دہشتگردی کے لیے پاکستان کا نام لے کر مذمت کی جائے لیکن تینوں بڑی اور بااثر تنظیموں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارت کی سب سے آخر میں شرکت

چین کے شہر تیانجن میں جاری ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارت نے بالکل آخری وقت میں شرکت کی کنفرمیشن کی، جس کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے کہ بھارت کو یا تو اِس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا یا وہ خود شرکت نہیں کررہا۔

اس سے قبل 16 جون کو کینیڈا کے شہر کیلگری میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں بھی ایسا ہی معاملہ درپیش ہوا تھا جب بھارت اور کینیڈا کے درمیان سفارتی کشیدگی کے پیش نظر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سب سے آخر میں اجلاس میں مدعو کیا گیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس

شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس چین کے شہر تیانجن میں جاری ہے۔ گزشتہ روز رُکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ اجلاس کی سائیڈ لائن پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اہم ملاقاتیں کی ہیں جن میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ایرانی وزیرِ خارجہ آغا عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

اس اجلاس کا مقصد اکتوبر میں تیانجن میں ہونے والے سربراہی اجلاس کی سیاسی تیاری کرنا تھا۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے اجلاس کی صدارت کی اور رکن ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون اور عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا، نیز متعدد دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔

بھارت کی شرکت کو چینی میڈیا نے سفارتی پیش رفت قرار دیا

شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر شرکت کررہے ہیں اور گزشتہ روز اُنہوں نے چینی صدر سے بھی ملاقات کی۔ 2020 گالوان واقعے کے بعد ایس جے شنکر کا یہ پہلا دورہ چین تھا جس کو چین نے سفارتی پیش رفت قرار دیا۔ اجلاس میں بھارت نے دہشتگردی کے مسئلے پر اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کیا اور تجارتی راہداریوں میں رکاوٹوں سے بچنے پر بھی زور دیا۔

بھارت چین سفارتی تعلقات کشیدہ مگر بھارت نے شرکت تو کرنی ہی تھی، سفارتکار مسعود خان

چین میں طویل عرصہ بطور سفیر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سفارتکار مسعود خان نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارت نے شرکت تو کرنی ہی تھی وہ اُس کا بائیکاٹ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اکتوبر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں اگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی شرکت نہیں کرتے اور ایس جے شنکر کو نامزد کیا جاتا ہے تو اُن کے لیے پیش رفت سے آگاہ رہنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس: ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک اور فنڈ بنانے پر اتفاق

انہوں نے کہاکہ بھارت اور چین میں پہلے گولوان تنازع پھر پاکستان کی حمایت اور اب تبت کے معاملے پر حالات تناؤ کا شکار ہیں لیکن بھارت کی جانب سے تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے بعد تعلقات میں بہتری آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟