ٹریفک پولیس لاہور نے اینٹی بیگنگ اسکواڈ کی کارروائی کے دوران ایک دن میں 11 بچوں کو پیشہ ور بھکاریوں کے چنگل سے بازیاب کرا کے چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور ایدھی ہومز کے حوالے کر دیا۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق، یہ کارروائی سی ٹی او لاہور کے خصوصی احکامات پر کی گئی، جس کا مقصد لاہور شہر سے پیشہ ور بھکاریوں کا مکمل خاتمہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں بھکاری مافیا ’چیفس‘ کے گرد شکنجہ مزید سخت
انہوں نے بتایا کہ 6 بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے سپرد کیا گیا۔ 3 بچوں کو ایدھی ہومز میں بھیجا گیا۔ جبکہ 2 بچوں کو ان کے اہل خانہ کے سپرد کر دیا گیا، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ وہ آئندہ بھیک نہیں مانگیں گے۔
پیشہ ور بھکاری بچوں کو جرائم میں ملوث کرتے ہیں
سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ پیشہ ور گداگر ان بچوں کو نہ صرف بھیک منگوانے کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ انہیں دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث کیا جاتا ہے، جو معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
اینٹی بیگنگ مہم کے نتائج
سی ٹی او کے مطابق، گزشتہ 4 ماہ کے دوران تقریباً 2,200 بھکاریوں کو سڑکوں سے اٹھا کر مختلف فلاحی اداروں کے سپرد کیا گیا ہے تاکہ ان کی بہبود اور بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے بھیک مانگنا ناقابل ضمانت جرم قرار، پنجاب اسمبلی نے ترمیمی بل کی منظوری دے دی
ڈاکٹر اطہر وحید کا کہنا ہے کہ ’ہم لاہور کو بیگر فری (Beggar-Free) شہر بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ شہری اگر سڑک پر کسی بھکاری کو دیکھیں تو فوراً 15 پر کال کریں، ہم فوری پہنچیں گے۔‘














