پیر چناسی: آسمان سے باتیں کرتا آزاد کشمیر کا پیراگلائیڈنگ پوائنٹ

اتوار 20 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر کی بلند و بالا چوٹیوں میں واقع پیر چناسی، سیاحت اور ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے ایک نئی منزل کے طور پر تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے صرف 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع، یہ مقام سطح سمندر سے 9 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ جو قدرتی حسن، تازہ ہوا اور مہم جوئی کے مواقع کے باعث سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔

پیر چناسی کو پاکستان کا دوسرا خوبصورت اور پیراگلائیڈنگ کے لیے انتہائی موزوں مقام قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں کے سرسبز پہاڑی سلسلے، نیچے بہتے دریا، اور پھیلے ہوئے دیہی مناظر نہ صرف فضا میں اڑنے کا شوق رکھنے والوں کو مسحور کرتے ہیں بلکہ ایک محفوظ اور فطری پرواز کا تجربہ بھی فراہم کرتے ہیں۔

یہ علاقہ جہاں فطرت کی خوبصورتی اور ایڈونچر کی تھرل یکجا ہوتے ہیں، سیاحتی ترقی کے لیے زبردست امکانات رکھتا ہے۔ تاہم انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی، سہولیات کی کمی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم چیلنجز فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اگر حکومتی توجہ اور سرمایہ کاری شامل کی جائے تو پیر چناسی نہ صرف مقامی معیشت کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پیراگلائیڈنگ اور ماحولیاتی سیاحت کا نمایاں مرکز بن سکتا ہے۔ مزید جانیے سید بصیر جعفری کی اس رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ

ورلڈ کپ سے پہلے ہی شائقین کا طوفان، فیفا کو ٹکٹوں کی تاریخ ساز ڈیمانڈ کا سامنا

ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

مچل اسٹارک آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار، دسمبر 2025 کا اعزاز آسٹریلوی فاسٹ بولر کے نام

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘