سابق بھارتی کپتان سوراو گنگولی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایشیا کپ میں مقابلے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ ’کھیل کو جاری رہنا چاہیے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پہلگام جیسے واقعات افسوسناک ہیں اور دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن کھیل کو ان سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
ایشیا کپ 2025 کا انعقاد 9 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کو گروپ ’اے‘ میں رکھا گیا ہے اور ان کا پہلا مقابلہ 14 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: ایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرا، بھارتی سیاستدان پیچ و تاب کیوں کھا رہے ہیں؟
گنگولی نے ’پی ٹی آئی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شیڈول سے کوئی مسئلہ نہیں۔ کھیل جاری رہنا چاہیے۔ جو پہلگام میں ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن ہم کھیل کو رکنے نہیں دے سکتے۔ دہشتگردی ختم ہونی چاہیے۔ بھارت نے اس پر سخت مؤقف اپنایا ہے، وہ اب ماضی کا حصہ ہے۔ کھیل کو آگے بڑھنا چاہیے۔
14 ستمبر کو ہونے والا پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا محض ایک کرکٹ میچ نہیں رہا بلکہ یہ ایشیا کپ 2025 کے ساتھ ساتھ سیاسی کشیدگی کا بھی محور بن چکا ہے۔ پہلگام دہشتگرد حملے کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعتوں اور بعض سابق کرکٹرز نے پاکستان کے ساتھ میچ کی مخالفت کرتے ہوئے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ’نو میچ ود پاکستان‘ کی مہم زور پکڑ چکی ہے، اور اس پر راجیہ سبھا و لوک سبھا کے اراکین نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔
مزید پڑھیں:ایشیا کپ 2025: پاک بھارت ٹاکرے کی راہیں ہموار، بھارتی حکومت کا گرین سگنل
تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایشیا کپ سے دستبرداری کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے شیڈول کے مطابق میچ کھیلنے کا عندیہ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈھاکا میں ہونے والے ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے میچ کھیلنے کی منظوری دی جا چکی ہے، اور موجودہ کشیدگی کے باوجود بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ طور پر 3 بار مقابلہ ہو سکتا ہے، جن میں گروپ میچ، سپر فور مرحلہ اور فائنل شامل ہیں۔
ایشیا کپ کے لیے بھارت اپنا پہلا میچ 10 ستمبر کو یو اے ای کے خلاف کھیلے گا، جبکہ ممکنہ طور پر 21 ستمبر کو سپر فور مرحلے میں بھارت اور پاکستان دوبارہ آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایشیا کپ کے شیڈول کا اعلان، پاک بھارت ٹاکرا 14 ستمبر کو ہوگا
گروپ اے میں بھارت، پاکستان، یو اے ای اور عمان شامل ہیں، جبکہ گروپ بی میں سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) نے 19 میچوں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ کے لیے 17 رکنی اسکواڈز کی اجازت دی ہے، اور تمام میچز دبئی اور ابوظہبی میں کھیلے جائیں گے۔
یاد رہے کہ اگرچہ بھارت بورڈ (بی سی سی آئی) ایشیا کپ کا میزبان ہے، تاہم بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک نے 2027 تک صرف غیر جانبدار مقامات پر کھیلنے پر اتفاق کیا ہے۔












