مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

پیر 28 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل فلسطین تنازع ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور دو ریاستی حل کے امکانات تیزی سے معدوم ہو رہے ہیں۔

نیویارک میں فلسطین کے مسئلے کے پُرامن حل سے متعلق اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فوری اور فیصلہ کن اقدامات کریں تاکہ یہ عمل مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا اماراتی ہم منصب سے رابطہ، مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل پر زور

انہوں نے سعودی عرب اور فرانس کی جانب سے اس اہم کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ عمل کی طرف بڑھنے کا ایک نادر اور ناگزیر موقع ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہاکہ یہ تنازع حل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے سچائی، جرات مند قیادت اور سیاسی عزم درکار ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ دو ریاستی حل ماضی کی نسبت آج کہیں زیادہ دور ہے۔

انہوں نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیاکہ ان حملوں کے باوجود غزہ کی مکمل تباہی، عوام کا قحط، ہزاروں شہریوں کا قتل، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی تقسیم، اسرائیلی بستیوں کا پھیلاؤ، فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری، زبردستی بے دخلی اور مغربی کنارے کے الحاق کی کھلی حمایت کسی طور قابلِ جواز نہیں۔

انہوں نے کہاکہ مغربی کنارے کا تدریجی الحاق بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور اسے فوراً روکنا ہوگا۔ غزہ کی وسیع تباہی اور وہ تمام یکطرفہ اقدامات جو دو ریاستی حل کو ہمیشہ کے لیے ناممکن بنا دیں، ناقابلِ قبول ہیں۔

’یہ سب الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم حقیقت کا حصہ ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امن کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے۔‘

انتونیو گوتریس نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ یہ کانفرنس محض اچھی نیت پر مبنی بیانات کا فورم نہ بنے، بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو، جو قابض نظام کے خاتمے اور ایک قابلِ عمل دو ریاستی حل کی طرف ناقابل واپسی پیش رفت کا باعث بنے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دو آزاد، خودمختار، جمہوری اور جڑی ہوئی ریاستیں اسرائیل اور فلسطین 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک دوسرے کے ساتھ امن اور سلامتی کے ساتھ رہیں، اور یروشلم دونوں کا دارالحکومت ہو۔ یہی بین الاقوامی قانون پر مبنی اقوام متحدہ کی قراردادوں سے منظور شدہ اور عالمی برادری کا حمایت یافتہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل، سعودی عرب کا بین الاقوامی الائنس کی تشکیل کا فیصلہ

انہوں نے آخر میں کہاکہ اسرائیل، فلسطین اور دیگر کلیدی فریقین کی جانب سے جرات مند اور اصولی قیادت ہی مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟