شرح سود 11 فیصد پر برقرار، مہنگائی میں اضافے کا خدشہ: گورنر اسٹیٹ بینک

بدھ 30 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں مالی سال میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مہنگائی کی حالیہ صورتِ حال اور عالمی اقتصادی تغیرات شرح سود برقرار رکھنے کی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے سال اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ جون 2025 میں یہ شرح 7.5 فیصد پر آ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: آٹو فنانسنگ میں 20 فیصد کی لمبی چھلانگ،اسٹیٹ بینک نے ڈیٹا جاری کردیا

انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں آئندہ مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح رواں مالی سال 5 سے 7 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم کچھ مہینوں میں یہ شرح 7 فیصد سے تجاوز بھی کر سکتی ہے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ اپریل میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 0.3 فیصد پر آ گئی تھی لیکن پچھلے دو ماہ میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ آئندہ سال کی ابتدا میں بھی مہنگائی میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔

گورنر کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں حالیہ معمولی ردوبدل مستقبل میں مہنگائی پر سازگار اثرات نہیں ڈالے گا، جس بنیاد پر شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ

انہوں نے ملکی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2022 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4 فیصد سے زائد تھا، تاہم تمام قرضہ جات بروقت ادا کیے گئے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر ادائیگیوں کے باوجود 5 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2025 میں معاشی نمو 2.7 فیصد رہی، جبکہ زرعی شعبے کی ترقی 0.6 فیصد پر محدود رہی۔ تاہم رواں سال زرعی شعبہ بہتری کی طرف جا رہا ہے، جس سے معاشی نمو میں اضافہ ہوگا۔

برآمدات کے حوالے سے گورنر کا کہنا تھا کہ مالی سال 2024 میں برآمدات میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوا، جو ناکافی ہے، جبکہ زرمبادلہ میں 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو 30 ارب ڈالر سے بڑھ کر 38.3 ارب ڈالر تک پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تنخواہ اور دیگر مراعات کتنی؟

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں مجموعی درآمدات 11.1 فیصد کے اضافے سے 59.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ نان آئل امپورٹس میں 16 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ملکی معاشی سرگرمیوں میں بہتری کا اشارہ ملتا ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے، روپے کی قدر میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر اور درآمدات میں کمی جیسے عوامل بھی شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے میں شامل ہیں۔ آئندہ پالیسی میں بھی معیشت کی سمت اور مہنگائی کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان