ڈیجیٹل دور میں اسکرین کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں رہا۔ دفاتر میں زوم میٹنگز ہوں یا گھر پر سوشل میڈیا، ایک بالغ فرد روزانہ اوسطاً 6 گھنٹے اسکرین کے سامنے گزارتا ہے، جس سے بینائی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں کے پٹھے تھک جاتے ہیں اور کمپیوٹر وژن سنڈروم جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں، جیسے خشک آنکھیں، دھندلا پن، سردرد اور تھکن۔
تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ کچھ سادہ عادات اپنا کر آنکھوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین نے 5 ایسے سائنسی طور پر مؤثر مشورے دیے ہیں جو آنکھوں کو دباؤ سے بچا سکتے ہیں:
20-20-20 رول اپنائیں:
ہر 20 منٹ بعد، 20 فٹ دور کسی چیز کو 20 سیکنڈ تک دیکھیں تاکہ آنکھوں کے پٹھے آرام کریں۔
اسکرین اور ورک اسٹیشن کی ترتیب درست کریں:
اسکرین کو آنکھوں کی سطح پر رکھیں، براہ راست روشنی یا چمک سے بچیں، اور گردن یا کمر پر دباؤ نہ پڑنے دیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ کی 15 سالہ مستبشرہ کی روشنی سے محروم آنکھیں خوابوں سے عاری نہیں
پُر اثر پلکیں جھپکیں:
اسکرین دیکھتے وقت پلک جھپکنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے، جو آنکھوں کو خشک کر دیتی ہے۔ یاددہانی کے لیے اسکرین پر “Blink!” کا نوٹ لگائیں، اور اردگرد نمی برقرار رکھیں۔
نیلی روشنی کے فلٹر کا استعمال کریں:
اسکرین کی نیلی روشنی آنکھوں پر بوجھ ڈالتی ہے، خاص طور پر اندھیرے میں۔ نائٹ موڈ یا بلیو لائٹ فلٹر استعمال کریں یا چشمہ لگائیں۔
غیر ضروری اسکرین ٹائم کم کریں:
سوشل میڈیا یا تفریح کے لیے اسکرین کا غیر ضروری استعمال کم کریں۔ ایسی ایپس استعمال کریں جو اسکرین ٹائم پر نظر رکھیں اور عادتیں بدلنے میں مدد دیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ چھوٹے اقدامات بینائی کو طویل مدت تک محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، آنکھیں قدرت کا انمول تحفہ ہیں ان کا خیال رکھنا ہماری ذمے داری ہے۔













