حکومت گلگت بلتستان نے دیامر کے علاقے تھک بابوسر میں سیلاب کی زد میں آکر لاپتا ہونے والے سیاحوں کی لاشوں کی تلاش کے لیے جاری سرچ آپریشن باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ 2 ہفتوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود مزید لاشیں برآمد نہ ہونے کے باعث کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: موسم سرما کا آغاز: بابو سر ٹاپ پر شدید برفباری، درجہ حرارت منفی پہنچ گیا
صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق سیلاب کے ملبے سے تمام گاڑیاں نکال لی گئی ہیں، تاہم لاپتا افراد کی باقی لاشیں تلاش کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں، جس کے بعد 14 روزہ آپریشن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے اختتام پر تمام لاپتا افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہے۔
یاد رہے کہ 20 جولائی کو بابوسر کے مقام پر آنے والے شدید سیلاب میں قریباً 20 گاڑیاں اور متعدد سیاح بہہ گئے تھے۔ اب تک 9 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ کئی افراد بدستور لاپتا ہیں۔
جاں بحق افراد میں نجی ٹی وی کی اینکر شبانہ لیاقت کے 4 رشتہ دار اور ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 2 افراد بھی شامل تھے۔ لاپتا افراد کی تلاش میں پاک فوج کے دستے سراغ رساں کتوں اور جدید آلات کی مدد سے حصہ لیتے رہے۔
تھک بابوسر سرچ آپریشن 21 جولائی سے 3 اگست 2025 تک جاری رہا، جس میں پاک فوج، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، این ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، پولیس، مقامی رضاکاروں اور ضلعی انتظامیہ دیامر نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
ڈپٹی کمشنر دیامر عطا الرحمان کاکڑ کے مطابق آپریشن کے دوران ملبے سے 5 گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل نکالی گئی، جبکہ اب تک 8 جاں بحق افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن میں سے 2 کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ متاثرہ خاندانوں کو حکومت گلگت بلتستان اور ضلعی انتظامیہ دیامر کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا گیا، جبکہ مرحومین کے لیے تھک بابوسر کے علاقے پریکہ میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بابوسر سیلاب: 15 افراد تاحال لاپتا، گلگت بلتستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت
انہوں نے بتایا کہ سرچ آپریشن میں حصہ لینے والے اداروں اور افراد کی خدمات کے اعتراف میں این ڈی ایم اے ٹیم اور مقامی رضاکاروں کو تعریفی اسناد سے نوازا گیا، جب کہ کمشنر دیامر استور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر دیامر نے الوداعی تقریب میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔














