چلی کے سائنس دانوں نے پہلی بار انٹارکٹکا میں پائے جانے والے برڈ فلو وائرس (ایچ 5 این 1) کا مکمل جینیاتی کوڈ تیار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برڈ فلو نے تباہی مچادی، 30 کروڑ پرندے ہلاک، چوپائے بھی متاثر
یہ تحقیق ایمرجنگ انفیکشس ڈیزیزز نامی امریکی جریدے میں شائع ہوئی ہے، جسے یونیورسٹی آف چلی اور چلی کے انٹارکٹک انسٹی ٹیوٹ نے مشترکہ طور پر کیا۔

سائنس دانوں نے یہ وائرس پرندوں جیسے اسکیوا اور ٹرنز میں دریافت کیا۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ وہی قسم ہے جو جنوبی امریکا میں بھی پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انٹارکٹکا میں 65 سال بعد برطانوی کوہ پیما اور اس کے وفادار کتے کی باقیات برآمد
جینیاتی تجزیے سے یہ بھی واضح ہوا کہ وائرس جنوبی امریکا سے انٹارکٹکا منتقل ہوا ہے اور وہ پرندوں اور سمندری جانوروں کو متاثر کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے پتا چلتا ہے کہ وائرس مختلف ماحول میں جا کر شکل بھی بدل سکتا ہے اور مزید خطرناک ہو سکتا ہے، جو انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2023 کے آخر میں پہلی بار برڈ فلو انٹارکٹکا پہنچا اور 2024 سے 2025 کے دوران یہ وائرس پینگوئن، کارمورینٹ، سی گلز اور سمندری جانوروں جیسے سیل اور ایلیفینٹ سیل میں بھی پایا گیا۔

حالیہ مہمات میں 13 اقسام کے تقریباً 200 متاثرہ جانور ملے ہیں، جو اس نازک خطے کی حیاتیاتی تنوع کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔














