سعودی عرب کے خوبصورت اور ٹھنڈے پہاڑی شہر طائف میں عربی گھوڑے کی حفاظت اور اس کے ورثے کو زندہ رکھنے کی ایک شاندار کہانی سامنے آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پولو ٹورنامنٹ کے لیے گھوڑے کو کیسے تیار کیا جاتا ہے، اور وہ کھاتا کیا ہے؟
یہ گھوڑا مملکت کی پہچان اور ثقافتی ورثے کی علامت مانا جاتا ہے۔
سعودی گزٹ کے مطابق، طائف کی تاریخی گورنری میں نسل پرور اور شوقین حضرات عربی گھوڑوں کی خالص نسلوں کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے انتھک کوششیں کر رہے ہیں، جنہیں سعودی عرب کی ثقافتی شناخت کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے۔

ان کی محنت محض ماضی کی یاد تازہ نہیں بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو آج بھی قومی روح کو جلا بخشتا ہے۔
طائف یونیورسٹی کی پروفیسر آف زوالوجی ڈاکٹر فوزیہ السلمی نے سعودی پریس ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کے عربی گھوڑے اپنی خالصیت اور عالمی مقام میں بے مثال ہیں۔

ان کا کہنا تھا نسل پرور حضرات کی اصل جینز اور خالص خون کو محفوظ رکھنے کی لگن کے باعث سعودی عرب دنیا میں عربی گھوڑوں کی پیدائش میں سب سے آگے ہے۔ یہ محض ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ مملکت کی ثقافتی سرمایہ کاری کی عکاسی ہے۔
ثقافتی نقاد اور طائف یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر طلال الثقفی نے عربی گھوڑے کو جرات، فخر اور لازوال حسن کی زندہ علامت قرار دیا۔
ان کے مطابق یہ گھوڑے اسلامی تاریخ اور عربی شاعری، کلاسیکی اور نبطی دونوں, میں جرأت، شان و شوکت اور عزت کی کہانیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

طائف میں اس نایاب نسل کے تحفظ پر توجہ دینا مملکت کے بڑے وژن کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد اپنے ثقافتی خزانوں کو محفوظ اور اجاگر کرنا ہے۔
مقامی سرپرستی، تعلیمی منصوبوں اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے یہ کوششیں جاری ہیں تاکہ عربی گھوڑے کا یہ ورثہ نہ صرف محفوظ رہے بلکہ مستقبل میں بھی اسی شان سے آگے بڑھتا رہے جیسے صدیوں سے بڑھتا آ رہا ہے۔














