ایلون مسک کے نئی سیاسی جماعت کے منصوبے مؤخر، وجہ کیا بنی؟

بدھ 20 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے اپنی نئی سیاسی جماعت کے قیام کے منصوبوں کو خاموشی سے سست روی کا شکار کر دیا ہے اور اس وقت اپنی کاروباری سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

ایلون مسک نے جولائی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیکس کٹ اور اخراجات کے بل پر تنازعے کے بعد ‘امریکا پارٹی’ کے نام سے نئی سیاسی جماعت متعارف کرائی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے اعتراف کیا ہے کہ اس منصوبے پر آگے بڑھنے سے نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اس لیے وہ فی الحال محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک نے ’ایپل‘ کو قانونی کارروائی کی دھمکی کیوں دی؟

رپورٹ کے مطابق مسک نے اپنے قریبی حلقوں کو بتایا ہے کہ اگر جے ڈی وینس 2028 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ اپنے مالی وسائل میں سے کچھ حصہ ان کی حمایت کے لیے مختص کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال مسک نے صدر ٹرمپ اور ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم میں تقریباً 300 ملین ڈالر خرچ کیے تھے جس کے بعد ٹرمپ نے انہیں نئی تشکیل شدہ ‘ڈیپارٹمنٹ آف ایفیشنسی’ کا سربراہ بھی مقرر کیا۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایلون مسک ’رام‘ ہو گئے، صدر کی عالمی کامیابیوں کا اعتراف

ادھر ٹیسلا کے حصص رواں سال اب تک 18 فیصد تک گر چکے ہیں۔ کمپنی نے جولائی میں گزشتہ دہائی کی بدترین سہ ماہی سیلز رپورٹ کی اور منافع بھی وال اسٹریٹ کی توقعات سے کم رہا، اگرچہ مارجن اندازوں سے کچھ بہتر تھے۔ مسک نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی معاونت ختم کیے جانے کے بعد کمپنی کو آئندہ ‘کچھ کٹھن سہ ماہیوں’ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp