جاپان کے ایک نسبتاً غیرمعروف شہر تویاکے نے اپنے شہریوں کے لیے اسمارٹ فون کے استعمال کو روزانہ صرف دو گھنٹے تک محدود کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قدم ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے منفی اثرات کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔
آئچی صوبے کے شہر تویاکے نے اس حوالے سے ایک مجوزہ قانون تیار کیا ہے جو جاپان کی سطح پر پہلا ایسا بل تصور کیا جا رہا ہے جس کا مقصد اسمارٹ فون اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کے استعمال پر وقت کی حد مقرر کرنا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر مقامی اسمبلی اس بل کو منظور کر لیتی ہے تو یہ یکم اکتوبر سے نافذالعمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 16 سال سے کم عمر بچوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنایا تو کتنی سزا ہوگی؟
ایک مقامی اہلکار کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ یہ قانون لوگوں کو اس بات پر سوچنے کا موقع دے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز کا استعمال کس طرح کر رہے ہیں۔ تاہم، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔
مسودے میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ پرائمری اسکول کے طلبا رات 9 بجے کے بعد اسمارٹ فون کا استعمال ترک کریں جبکہ جونیئر ہائی اسکول اور اس سے بڑی جماعتوں کے طلبہ رات 10 بجے کے بعد اپنے ڈیوائسز بند کردیں۔
مزید پڑھیں: کم عمر صارفین کی سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی، سینیٹ میں بل پیش
اگرچہ مسودے میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور ٹیبلٹس ضروری ڈیوائسز ہیں، لیکن یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور ویڈیو اسٹریمنگ کا زیادہ استعمال صحت اور خاندانی زندگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔













