لاہور میں ٹریفک مسائل سے نمٹنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا انقلابی فیصلہ

جمعہ 22 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب کا دارالحکومت لاہور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ٹریفک مسائل کا شکار ہے۔ حکومت نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی نے شہر میں بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور نظام میں بہتری لانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ٹریفک جام کی نگرانی کی جائے گی بلکہ شہر کی مصروف شاہراہوں پر بھی مسلسل نظر رکھی جائے گی، جس سے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ٹریفک پولیس نے 13 ہزار موٹرسائیکل سواروں کو شہر میں داخل ہونے سے کیوں روکا؟

سیف سٹی حکام نے بتایا کہ ابتدائی طور پر لاہور میں 10 ڈرون کیمروں کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی شروع کی جائے گی۔ یہ ڈرونز ستمبر 2025 کے آخر تک فعال ہو جائیں گے اور شہر کے اہم مقامات پر ٹریفک کی صورتحال پر نظر رکھیں گے۔

’ان ڈرونز کی مدد سے ٹریفک جام کے مقامات کی فوری نشاندہی کی جائے گی، اور متعلقہ معلومات ٹریفک پولیس اور وارڈنز کو فراہم کی جائیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔‘

ڈرونز کا کردار اور ٹریفک مینجمنٹ

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق ڈرون کیمرے ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کریں گے، جو ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔ یہ ڈرونز شہر کی مصروف شاہراہوں، چوراہوں اور دیگر اہم مقامات پر ٹریفک کی صورتحال کی نگرانی کریں گے۔

جب بھی کسی علاقے میں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگی، ڈرونز فوری طور پر اس کی نشاندہی کرکے سیف سٹی اتھارٹی کے کنٹرول روم کو آگاہ کریں گے۔ اس کے بعد ٹریفک پولیس اور وارڈنز کو بروقت ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ وہ موقع پر پہنچ کر ٹریفک کی روانی بحال کر سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام نہ صرف ٹریفک جام کے مسائل کو کم کرے گا بلکہ شہریوں کو روزمرہ سفر میں درپیش مشکلات سے بھی نجات دلائے گا۔ ڈرونز کی اعلیٰ معیار کی فوٹیج اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی آسان ہو جائے گی، جس سے قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

ڈرونز کی تعداد میں اضافہ

سیف سٹی اتھارٹی نے واضح کیاکہ ابتدائی مرحلے کے کامیاب تجربات کے بعد ڈرون کیمروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائےگا۔ مستقبل میں پورے شہر کی نگرانی کے لیے مزید ڈرونز نصب کیے جائیں گے، جو لاہور کے ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو مزید مؤثر بنائیں گے۔

اس کے علاوہ جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے لیس ٹریفک کنٹرول سینٹرز کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جیسا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ٹوکیو کے جدید ٹریفک کنٹرول سینٹر کے دورے کے دوران اعلان کیا تھا۔

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے حکام نے کہاکہ یہ منصوبہ لاہور کو پاکستان کا پہلا اسمارٹ سٹی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

جاپان کے تجربات سے استفادہ کیا جائےگا، وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ جاپان کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے لاہور میں جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور کی سڑکوں پر لیڈی ٹریفک اسسٹنٹس مرد افسران کے شانہ بشانہ ٹریفک ڈیوٹی پر تعینات

حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے تعاون کریں اور ٹریفک قوانین کی پابندی کو یقینی بنائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی، تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کی دستیابی میں کتنا موثر ثابت ہوگا؟

موساد کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام، بحرین میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر گرفتار

گلوکارہ ریحانہ کے گھر پر گولیاں چلانے والی خاتون گرفتار، حملے کے پیچھے وجہ کیا؟

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے کمیٹی قائم کر دی

بیت الخلا سے دو لڑکیوں کی لاشیں برآمد، چیٹ جی پی ٹی سے خودکشی کے خوفناک طریقے پوچھنے کا انکشاف

ویڈیو

لاہور میں ملک کی پہلی سمارٹ روڈ روٹ 47 کی خصوصیات کیا ہیں؟

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟