غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں 61 فلسطینی شہید اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جن میں کم از کم 4 بچے بھی شامل ہیں۔
یہ شہادتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے۔ مظاہروں میں 2 بڑے گروہ شامل تھے:
یرغمالیوں کے اہلِ خانہ کا احتجاج: ’ہوسٹیج اسکوائر‘ میں ہونے والے مظاہرے میں اسرائیلی شہریوں نے اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا جو اب بھی حماس کے پاس ہیں۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اضافہ یرغمالیوں کی زندگیاں مزید خطرے میں ڈال رہا ہے اور حکومت کو فوری طور پر مذاکرات کرنے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرکے ہتھیار ڈال دے ورنہ غزہ کو تباہ کردیں گے، اسرائیل کی دھمکی
عرب-یہودی مشترکہ احتجاج: ’ہبیما اسکوائر‘ پر عرب اور یہودی شہریوں نے مل کر جنگ اور بھوک کے خاتمے کے لیے نعرے بلند کیے، جن میں شامل تھا: ‘نسل کشی بند کرو، غزہ سے جنین تک بچوں کا قتل بند کرو‘ مظاہرین نے فلسطینی بچوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جو غذائی قلت کا شکار ہیں۔
یرغمالیوں کی صورتحال
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کے قبضے میں اب بھی 49 افراد موجود ہیں، جن میں سے 22 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔ ان میں 2 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری معاہدہ کرے کیونکہ ’یہ شاید زندگیاں بچانے کا آخری موقع ہے۔‘

ملک گیر ہڑتال اور مظاہرے
ہفتے کے بعد اتوار کو اسرائیل میں ملک گیر ہڑتال شروع ہوئی جس میں لاکھوں افراد نے حصہ لیا۔ ’ہوسٹیجز اینڈ مسنگ فیملیز فورم‘ اور ’اکتوبر کونسل‘ نے ہڑتال کی کال دی تھی، جس کا مقصد 10 لاکھ افراد کو دارالحکومت تل ابیب کے ’ہوسٹیج اسکوائر‘ اور ملک کے دیگر شہروں میں جمع کرنا تھا۔ منگل کو ملک گیر یکجہتی کا دن بھی منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کشیدگی میں اضافہ
تل ابیب میں پولیس نے ایک 61 سالہ خاتون کو گرفتار کیا جس نے ’غزہ کے لیے جان و خون قربان‘ کے نعرے لگائے۔ پولیس نے مظاہرے کے شرکاء کی تعداد کم ہونے پر علاقے کو بند کر دیا۔

انسانی بحران اور قحط
اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرنے والے عالمی ادارہ برائے غذائی سلامتی (IPC) نے جمعہ کو اعلان کیا کہ شمالی غزہ میں قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جہاں 5 لاکھ سے زائد افراد بھوک سے مر رہے ہیں اور ستمبر تک یہ تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں غزہ شہر بھی شامل ہے۔
اسرائیلی حکومت اور فوجی پیش رفت
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس ہفتے غزہ شہر پر زمینی کارروائی کے منصوبے کی منظوری دی اور ساتھ ہی کہا کہ حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کے حوالے سے ’فوری مذاکرات‘ شروع کیے جائیں۔














