اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا ہے کہ 25 مخصوص نشستوں پر گورنر کی جانب سے لیا گیا حلف آئین کے منافی تھا۔ کل اراکین دوبارہ آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق حلف اٹھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے گورنر کو حلف لینے کی ہدایات آئینی اختیارات سے تجاوز ہے‘ اسپیکر بابر سلیم سواتی
میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے وضاحت کی کہ اراکین اسمبلی سے حلف لینا اسپیکر کی آئینی ذمہ داری ہے اور انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ حلف نہیں لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اجلاس کورم کی کمی کے باعث مؤخر ہوا تھا، تاہم 25 مخصوص نشستوں پر گورنر کی جانب سے حلف لینا غیر قانونی اقدام تھا، اسی لیے اب کل دوبارہ باقاعدہ طور پر حلف لیا جائے گا۔
بابر سلیم سواتی نے بتایا کہ گورنر کی غیر قانونی حلف برداری کے معاملے پر انہوں نے چیف جسٹس پاکستان کو خط بھی تحریر کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بارشوں اور تباہ کاریوں کے بعد تمام اداروں نے مشترکہ کاوشوں سے متاثرین کی مدد کی جبکہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ہر متاثرہ علاقے کا دورہ کرکے قیادت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقوم میں دگنا اضافہ کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ 20 جولائی 2025 کو خیبرپختونخوا کی مخصوص نشستوں پر منتخب 25 اراکین نے گورنر ہاؤس پشاور میں حلف اٹھایا تھا، جہاں گورنر فیصل کریم کنڈی نے خواتین اور اقلیتوں کے منتخب نمائندوں سے حلف لیا۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری ہونا تھی، مگر پی ٹی آئی کے رکن شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاندہی کی جس کے بعد اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
اجلاس ملتوی ہونے کے سبب سینیٹ انتخابات بھی تعطل کا شکار ہوئے، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور درخواست کی کہ مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ کا گورنر خیبرپختونخوا کو مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین سے حلف لینے کا حکم
بعد ازاں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق نے اپوزیشن کی درخواست منظور کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کو حلف برداری کی ہدایت دی تھی۔














