امریکا میں پہلی مرتبہ گوشت خور پیراسائٹ سے انسانوں کے متاثر ہونے کی تصدیق

منگل 26 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکام کے مطابق ملک میں پہلی مرتبہ ’فلیش ایٹنگ‘ یعنی گوشت کھانے والے پیراسائٹ کے انسان کے جسم کو متاثر کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

بی بی سی کے مطابق امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات  نے بتایا کہ یہ کیس ایک ایسے مریض میں سامنے آیا جو حال ہی میں ایل سلواڈور سے واپس آیا تھا۔ کیس کی باضابطہ تصدیق 4 اگست کو کی گئی۔

یہ انفیکشن نیو ورلڈ اسکریو ورم مایاسِس کہلاتا ہے جو ایک خاص قسم کی مکھی کے لاروے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ پیراسائٹ عام طور پر زندہ گوشت میں سرایت کر کے اسے نقصان پہنچاتا ہے اور عموماً مویشیوں کو متاثر کرتا ہے۔

تاہم امریکی مرکز برائے انسداد امراض اور میری لینڈ کی صحت انتظامیہ نے مشترکہ طور پر اس کیس کی مکمل تفتیش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی صحت کے لیے خطرہ فی الحال انتہائی کم ہے۔

ایچ ایچ اس کے ترجمان اینڈریو نِکسن کے مطابق یہ امریکا میں سفر سے وابستہ پہلا انسانی کیس ہے جو کسی ایسے ملک سے آیا جہاں پہلے ہی اس پیراسائٹ کی وبا موجود ہے۔

مزید پڑھیے: چیونٹیوں کی اسمگلنگ میں اضافہ، اس کے نقصانات کیا ہیں؟

یہ مہلک کیڑا، جو زندہ بافتوں (ٹشوز) پر پلتا ہے، زیادہ تر جنوبی امریکا اور کیریبین کے خطوں میں پایا جاتا ہے مگر اب اس کے کیسز تمام وسطی امریکی ممالک، میکسیکو اور اب امریکا میں بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن کے جسم پر کھلا زخم ہو یا جو دیہی علاقوں میں مویشیوں کے قریب رہتے ہیں، ان کے اس پیراسائٹ سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، خصوصاً اگر وہ متاثرہ ممالک کا سفر کریں۔

امریکی محکمہ زراعت کے مطابق یہ پیراسائٹ مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات اور پرندوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے تاہم یہ شاذ و نادر ہی انسانوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جب اس کے لاروے کسی جانور کی جلد میں داخل ہوتے ہیں تو وہ سنگین اور بعض اوقات جان لیوا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال، پاکستان میں سالانہ کتنے لاکھ لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں؟

محکمے نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ انفیکشن مویشیوں میں پھیلتا ہے تو اس سے امریکی مویشی صنعت کو شدید اقتصادی نقصان پہنچ سکتا ہے جس کا اندازہ 100 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم امریکی محکمہ خارجہ، اور دیگر زرعی ادارے بھی اس وبا کے تدارک کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان