ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کی شب فیڈرل ریزرو بورڈ کی رکن لیزا کُک کے خلاف رہائشی قرضوں میں مبینہ فراڈ کے ایک اور مقدمے کی سفارش کردی۔
یہ دوسرا مجرمانہ ریفرنس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لیزا کُک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف اپنی برطرفی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
ایجنسی کے ڈائریکٹر ولیم پلٹے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ 3 بار کے بعد کھیل ختم۔ ’کُک نے تیسرے رہائشی قرض میں بھی غلط بیانی کی ہے اور اس طرزِ عمل سے فیڈرل ریزرو کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا بڑا قدم: امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس کٹ، اخراجاتی کمی اور سرحدی سیکیورٹی منصوبہ قانون بن گیا
ولیم پلٹے نے پہلے ریفرنس میں 26 اگست کو امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کو خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ لیزا کُک نے 2 مختلف جائیدادوں کے لیے ایسے رہائشی قرض کے کاغذات جمع کرائے جن میں دونوں کو اپنی بنیادی رہائش ظاہر کیا۔
3 strikes and you’re out.
Today, U.S. Federal Housing sent a 2nd Criminal Referral in the matter of Lisa D. Cook, related to a mortgage on a 3rd property and alleged misrepresentations about her properties to the United States Government during her time as Governor of the… pic.twitter.com/TAH68Mia23
— Pulte (@pulte) August 29, 2025
یہ کاغذات مبینہ طور پر 2021 کی گرمیوں میں 2 ہفتے کے فرق سے جمع کرائے گئے تھے، اب تازہ ریفرنس میساچوسٹس کے شہر کیمبرج کی ایک تیسری جائیداد سے متعلق ہے جسے کُک نے دسمبر 2021 میں رہائشی قرض کے کاغذات میں ’دوسرا گھر‘ ظاہر کیا۔
جبکہ چند ہفتوں بعد امریکی اخلاقیاتی فارم میں اسے ’سرمایہ کاری/کرایہ داری جائیداد‘ قرار دیا۔
مزید پڑھیں:صدر ٹرمپ نے بجلی کے بڑھتے نرخوں کا الزام ہوا اور شمسی توانائی پر دھر دیا
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز لیزا کُک سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی برطرفی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس اقدام کی قانونی حیثیت واضح نہیں اور ڈیموکریٹس کی جانب سے اسے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔
لیزا کُک نے اسی فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ امریکی صدر کا یہ قدم فیڈرل ریزرو ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق کسی گورنر کو صرف ’مناسب وجہ‘ پر ہی عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

مقدمے میں ٹرمپ کے ساتھ فیڈ چیئرمین جیروم پاول اور بورڈ آف گورنرز کو بھی فریق بنایا گیا ہے، عدالت میں ابتدائی سماعت جمعہ کی صبح وفاقی جج جیا کاوب کے سامنے ہوگی۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا نیا انتخابی منصوبہ، میل اِن بیلٹ اور ووٹنگ مشین ختم کرنے کا اعلان
اگر کُک مقدمہ جیت جاتی ہیں تو عدالت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ ان کے عہدے کو برقرار رکھنے کا اعلان کرے اور واضح کرے کہ بورڈ کے ارکان کو صرف قانونی وجوہات کی بنیاد پر ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔
ڈیموکریٹس نے اس پورے عمل کو صدر ٹرمپ کی غیر قانونی آمرانہ کوشش قرار دیا ہے، سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا کہ صدر ٹرمپ فیڈرل ریزرو کو اپنی ذاتی سیاسی طاقت کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ ’فیڈ کے فیصلے معاشی اعداد و شمار کی بنیاد پر ہوتے ہیں، سیاسی دباؤ پر نہیں، یہ قدم نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکی معیشت پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچائے گا۔‘














