ایک بین الاقوامی نیٹ ورک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جعلی ہولوکاسٹ تصاویر بنا کر فیس بک پر پوسٹ کر رہا ہے تاکہ صارفین کی توجہ حاصل کر کے مالی فائدہ اٹھایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ریستورانوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے آرڈرز لینا اکثر مضحکہ خیز بن جاتا ہے، جانیے کیسے؟
بی بی سی کی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ تصاویر اور کہانیاں نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہیں بلکہ ہولوکاسٹ جیسے حساس تاریخی سانحے کو ایک جذباتی کھیل بنا دیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق فیس بک پر حالیہ مہینوں میں ایسی اے آئی تصاویر پوسٹ کی گئیں جن میں آشووٹز کیمپ میں قیدیوں کو وائلن بجاتے یا باڑ کے کنارے محبوبوں کو ملتے دکھایا گیا حالانکہ ان مناظر کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں ہے۔ ان پوسٹس کو لاکھوں لائکس اور شیئرز ملے جس پر آشووٹز میموریل کے ترجمان پاویل ساوِسکی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی کھیل نہیں یہ حقیقی دنیا، حقیقی تکلیف اور حقیقی لوگ ہیں جنہیں ہم یاد رکھنا اور خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں۔
بی بی سی نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ زیادہ تر جعلی تصاویر پاکستان سے تعلق رکھنے والے کنٹینٹ کریئیٹرز پوسٹ کر رہے ہیں جو فیس بک کی مونیٹائزیشن اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایک صارف عبدالمغیث نے دعویٰ کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے 20 ہزار ڈالر کمائے ہیں اور اس کی پوسٹس پر 4 مہینوں میں 1.2 ارب ویوز آئے۔
یہ اے آئی سلاپ کہلانے والا مواد دراصل کم معیار کی بڑی تعداد میں تیار کردہ تصاویر اور تحریریں ہوتی ہیں جنہیں صرف پیسے کمانے کے لیے مسلسل شیئر کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے:مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین
آشووٹز میوزیم نے خبردار کیا ہے کہ ان کے اصل مواد کو چوری کر کے اے آئی ماڈلز کے ذریعے مسخ کیا جا رہا ہے اور اکثر اوقات فرضی کہانیاں اور کردار تخلیق کیے جا رہے ہیں جو ہولوکاسٹ کی یاد کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ میوزیم کے مطابق یہ تصاویر نہ صرف متاثرین کی بے حرمتی ہیں بلکہ تاریخ کے ساتھ سنگین مذاق بھی ہے۔
انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس سے وابستہ ایک ماہر ڈاکٹر رابرٹ ولیمز کہتے ہیں کہ سروائیورز اس صورتحال پر غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی زندگی بھر کی کوششیں کافی ثابت نہیں ہو سکیں۔
فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے بعد ازاں کئی ایسے صفحات اور گروپس کو بند کیا جو اسپیم اور جعلی شناخت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر ان کی پالیسیز کی براہِ راست خلاف ورزی نہیں کرتیں جب تک کہ وہ کسی کو دھوکہ نہ دیں یا جعلی شناخت اختیار نہ کریں۔
مزید پڑھیں: 100 سالہ شہری، ڈیجیٹل گرفتاری اور ایک کروڑ سے زائد روپے کا فراڈ
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کا استعمال اس انداز میں جاری رہا تو نہ صرف ہولوکاسٹ جیسی تاریخ کے بارے میں شکوک پیدا ہوں گے بلکہ حقیقی مظلوموں کی کہانیاں دب کر رہ جائیں گی۔
ڈاکٹر ولیمز نے کہا کہ تاریخ میں اس طرح کی شدت سے چھیڑ چھاڑ خطرناک ہے اور ہمیں اس سے ہر ممکن حد تک بچنا چاہیے۔