ایلون مسک نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی ) کے خلاف ہونے والے مقدمے میں درخواست دائر کی ہے کہ یہ مقدمہ خارج کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کے نئی سیاسی جماعت کے منصوبے مؤخر، وجہ کیا بنی؟
ایس ای سی نے الزام عائد کیا تھا کہ مسک نے ٹویٹر کے شیئرز پر اپنی شراکت داری کے بارے میں دیر سے انکشاف کر کے تقریباً 150 ملین ڈالر کی بچت کی۔ ٹوئٹر بعد میں خریدا گیا اور اس کا نام تبدیل کر کے ایکس رکھ دیا گیا۔
مسک کا دفاع
ایس ای سی کی شکایت (جنوری میں دائر کی گئی) میں کہا گیا کہ مسک نے حصص میں اپنی پوزیشن سے زیادہ ہونے پر 10 دن کے اندر انکشاف کرنا تھا، لیکن وہ صرف 21 دن بعد یعنی 4 اپریل 2022 کو یہ معلومات فراہم کرسکے۔
اس تاخیر کی وجہ سے ایس ای سی کا مؤقف ہے کہ مسک نے مصنوعی طور پر کم نرخ پر شیئرز حاصل کر کے مالی فائدہ اٹھایا ۔
مزید پڑھیے: کم عمر انجینیئر کائرن قاضی نے ایلون مسک کا اسپیس ایکس کیوں چھوڑ دیا؟
تاہم مسک کے وکیلوں نے عدالت میں جمع کرائی گئی اپنی مؤقف میں اسے عدالت کے وقت اور ٹیکس دہندگان کے وسائل کا ضیاع قرار دیا۔ ان کا یہ بھی مقف ہے کہ اس خامی کی جلد درستگی کر دی گئی اور کوئی قانونی خلاف ورزی، قابلیت، یا نقصان باقی نہیں رہ گیا ۔
مزید پڑھیں: جن بوتل سے باہر: غزہ پر آواز اٹھانے کی سزا ملی، ایلون مسک مجھے سنسر کر رہے ہیں، چیٹ بوٹ گروک بول پڑا
ایلون مسک کو 7 سال کے عرصے میں دیگر تحقیقات کا سامنا بھی رہا ہے جن میں ایک مقدمہ ٹیسلا کے مستقبل پر ٹوئٹ کی وجہ سے تھا جس میں آخر کار انہیں جیوری نے بری کر دیا ۔
آئندہ کیا ہو سکتا ہے؟
اب عدالت اس درخواست کا جائزہ لے گی کہ آیا قانونی طور پر یہ مقدمہ خارج کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اگر عدالت مسک کے حق میں فیصلہ کرتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ایس ای سی کو اپنی قانونی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ دوسری صورت میں یہ مقدمہ طے ہونے والی کارروائیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔