پنجاب میں شدید سیلابی صورتحال برقرار ، قصور میں تاریخ کا سب سے بڑا ریلا، شہر بچانا مشکل ہوگیا

ہفتہ 30 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت سے پانی چھوڑے جانے کے باعث پنجاب کے بڑے دریاؤں میں غیر معمولی سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جس کے سبب ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ڈی ایم اے سندھ کا اہم اجلاس، گڈو و سکھر میں ممکنہ سیلاب سے بچاؤ پر غور

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جس کے باعث تلوار پوسٹ سے ملحقہ دیہات خالی کرانے کے لیے اعلانات کیے گئے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گنڈا سنگھ والا پر پانی کے بہاؤ میں کمی کا سلسلہ جاری ہے جو 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک سے گھٹ کر 3 لاکھ 3 ہزار 828 کیوسک تک آگیا ہے۔

تاہم ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر اب بھی خطرات برقرار ہیں۔ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور بہاؤ ایک لاکھ 92 ہزار 545 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔

ہیڈ سدھنائی پر بھی پانی میں اضافہ جاری ہے، جبکہ شاہدرہ لاہور اور جسڑ پر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر بھی پانی کی آمد بڑھ رہی ہے۔

قصور میں تاریخ کا سب سے بڑا ریلا

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت میں بند ٹوٹنے کے بعد پانی قصور کی طرف بڑھا اور دریائے ستلج میں 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا ریلا آیا ہے۔

ان کے مطابق قصور شہر کو بچانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ لاہور اب بالکل محفوظ ہے، تاہم دریائے راوی میں طغیانی کے باعث آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت لاہور سے نیچے کے اضلاع کے لیے نہایت سخت ثابت ہو سکتے ہیں۔

سیلابی خطرات اور متاثرہ علاقے

بالاکوٹ، گنڈا سنگھ والا اور دیگر مقامات پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ چنیوٹ برج، راوی سائفن اور شاہدرہ پر بھی بلند سطح کے سیلاب کے امکانات ہیں۔

بیڈ سلمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قدو، خانکی، قادرآباد اور جسر پر درمیانے درجے جبکہ سکھر، کوٹری، مرالہ اور ہیڈ اسلام پر نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے۔

نالہ ڈیک اور بلیکو میں اونچے درجے اور دیگر نالوں میں درمیانے اور نچلے درجے کا سیلاب رپورٹ ہوا ہے۔

جانی نقصان اور ریسکیو سرگرمیاں

پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک صوبے میں سیلاب کے باعث 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بروقت ریسکیو آپریشنز اور فوری اقدامات کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔

نشیبی علاقوں میں نقل مکانی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جبکہ ریسکیو ادارے اور مقامی انتظامیہ ریلیف آپریشن میں سرگرم ہیں۔

ڈیموں کی موجودہ صورتحال

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے۔ تربیلا ڈیم سو فیصد جبکہ منگلا ڈیم اکیاسی فیصد تک بھر چکا ہے۔

تربیلا ڈیم کا موجودہ لیول 1550 فٹ، منگلا ڈیم 1223.75 فٹ، خانپور ڈیم 1979.60 فٹ، راول ڈیم 1750.50 فٹ اور سملی ڈیم 2314.75 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تربیلا ڈیم کے سپل ویز بند

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم کے سپل ویز رات 2 بج کر 38 منٹ پر بند کر دیے گئے ہیں اور اس وقت ڈیم سے پانی کا مجموعی اخراج ایک لاکھ 56 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد سیلابی سطح معمول پر آنے کی توقع ہے۔

لاہور میں فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح اگرچہ بتدریج کم ہو رہی ہے، تاہم دریا اب بھی انتہائی بلند سطح کے سیلاب میں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز یہاں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک تھا، جو اب کم ہو کر 3 لاکھ 3 ہزار 828 کیوسک رہ گیا ہے۔

راوی میں بھی بلند سطح کا سیلاب

بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں 1 لاکھ 92 ہزار 545 کیوسک کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شاہدرہ میں بھی پانی کی مقدار 1 لاکھ 46 ہزار 800 کیوسک تک جا پہنچی۔

ہلاکتیں اور ایمرجنسی اقدامات

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کے مطابق پنجاب میں صرف جمعہ کے روز 13 افراد سمیت اب تک سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہو چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قصور کو شدید نقصان سے بچانے کے لیے ستلج میں رحیم یار خان کے مقام پر بند توڑنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

بہاولپور میں انخلا کا عمل

دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد بہاولپور کے نشیبی علاقوں میں انخلا جاری ہے۔

مقامی حکام کے مطابق بستی پھلّاں، موزہ کرنانی، عباس نگر اور پتن سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

قصور اور سرحدی دیہات کو خطرہ

قصور میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر شدید سیلاب کے باعث متعدد سرحدی دیہات خالی کرانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

انتظامیہ نے مان، تاتڑا، بھیڑ سوڈیاں، رسول نگر، فتوہی والا اور بزی د پور سمیت کئی دیہات کے باسیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔

پشاور اور مانسہرہ میں موسلا دھار بارش

پشاور میں رات گئے آندھی اور بجلی کے ساتھ شدید بارش ہوئی جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں جاری رہے گا۔

اسی طرح مانسہرہ اور گردونواح میں بھی بارشوں نے زندگی مفلوج کر دی، جب کہ بھیرا میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔

آزاد کشمیر: باغ میں ندی نالوں میں طغیانی

باغ (آزاد کشمیر) میں مسلسل بارش سے محل ندی میں طغیانی آگئی جس کے باعث قریبی علاقوں کو خالی کرا لیا گیا تاکہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔

بلوچستان میں الرٹ

بلوچستان کے وزیرِ آبپاشی صادق عمرانی نے خبردار کیا ہے کہ 2 ستمبر کو دریائے سندھ کے راستے سیلابی پانی بلوچستان میں داخل ہو سکتا ہے جس سے جعفرآباد، اوستہ محمد اور صحبت پور متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق نصیرآباد میں کیمپ آفس قائم کر دیا گیا ہے اور تمام متاثرہ اضلاع میں محفوظ مقامات کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

سندھ میں ہائی الرٹ

سندھ کے وزیرِ آبپاشی جام خان شورو کے مطابق دریائے سندھ میں تین دریاؤں کا پانی داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث کچے کے علاقوں کے باسیوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے پاس بند توڑنے کا کوئی آپشن موجود نہیں۔

سیلابی ریلا ملتان کی جانب بڑھنے لگا، لاکھوں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور

ملتان کی حدود میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا آج شام تک داخل ہونے کا امکان ہے۔ شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر حفاظتی بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سیلاب کے خطرے کے پیش نظر 3 لاکھ سے زائد افراد اپنی بستیوں اور گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایشیائی ترقیاتی بینک سیلاب متاثرین کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد دے گا

متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی بروقت منتقلی کے انتظامات نہ ہونے پر انتظامیہ سے شکایات بھی کی ہیں۔

ادھر جلالپور پیر والا کے قریب دریائے ستلج میں 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جس سے 140 دیہات زیرِ آب آگئے۔

اسی طرح راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث نشیبی علاقوں سے لوگ پہلے ہی نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ بہاولپور میں بھی دریائے ستلج کے کناروں پر انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔

فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں بھی سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ ہے اور دریائی و نشیبی علاقوں کے مکینوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122، مقامی رضا کاروں کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پاکستان رینجرز بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

سیلابی صورتحال کے باعث پنجاب کے 9 اضلاع میں پولیو مہم مؤخر

صوبہ پنجاب کے 9 اضلاع میں جاری سیلابی صورتحال کے باعث انسداد پولیو مہم ملتوی کر دی گئی ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق لاہور، شیخوپورہ، قصور، اوکاڑہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان، مظفرگڑھ اور بہاولپور میں مہم مؤخر کی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق راولپنڈی، میانوالی، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، اٹک، راجن پور اور رحیم یار خان میں پولیو مہم اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گی۔

این ای او سی کا کہنا ہے کہ پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں انسداد پولیو مہم یکم ستمبر سے حسبِ اعلان شروع ہوگی۔

تربیلا ڈیم کے سپل ویز بند، پانی کا اخراج 1 لاکھ 56 ہزار کیوسک مقرر

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق تربیلا ڈیم کے سپل ویز رات 2 بج کر 38 منٹ پر بند کر دیے گئے ہیں۔

ڈیم سے پانی کا مجموعی اخراج ایک لاکھ 56 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد سیلابی سطح معمول کے بہاؤ پر آنے کی توقع ہے۔

ترجمان کے مطابق ہمیشہ کی طرح سپل ویز آپریشن کرنے سے پہلے عوام کو پیشگی اطلاع دی گئی۔

واضح رہے کہ پنجاب اور بالائی علاقوں میں حالیہ بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث کئی اضلاع میں سیلابی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ڈی ایم اے سندھ کا اہم اجلاس، گڈو و سکھر میں ممکنہ سیلاب سے بچاؤ پر غور

نشیبی علاقوں میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ریسکیو ادارے اور مقامی انتظامیہ ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں۔

پنجاب میں سیلاب سے 30 ہلاکتیں اور لاکھوں متاثرین ہیں، مریم اورنگزیب

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا ہے کہ صوبے میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ سیلاب سے 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: موسلادھار بارشوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خطرہ

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ 3 بڑے دریاؤں کے سیلاب سے 2 ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے، جن میں دریائے چناب کے پانی سے 1 ہزار 169، دریائے راوی سے 462 اور دریائے ستلج سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔

وزیر نے مزید کہا کہ صوبے میں 351 ریلیف اور میڈیکل کیمپس 24 گھنٹے متاثرین کی مدد اور دیکھ بھال کے لیے فعال ہیں، اور موسلادھار بارش کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp