دریائے راوی، ستلج اور چناب میں غیرمعمولی سیلابی صورت حال کے باعث پنجاب میں خطرات بدستور برقرار ہیں، اس کے علاوہ منگل اور بدھ کی شب دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جبکہ بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں آنے والے سیلاب سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق اب تک پانی میں ڈوبنے سے 30 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ صوبے کے 2 ہزار 308 دیہات اور 15 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
Punjab Floods 2025 | Current Situation in Ravi, Chenab & Sutlej | Types of Floods & Safety Tips#Floods #Flood2025 #flooding #floodinpakistan pic.twitter.com/DXqSUCjYo5
— Pak Met Department محکمہ موسمیات (@pmdgov) August 29, 2025
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں 3 ستمبر تک شدید درجے کے سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق شمالی مدھیہ پردیش پر موجود مون سون سسٹم کے اثرات کے باعث 2 سے 3 ستمبر کے دوران دریائے ستلج، بیاس اور راوی کے بالائی علاقوں میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ڈی ایم اے سندھ کا اہم اجلاس، گڈو و سکھر میں ممکنہ سیلاب سے بچاؤ پر غور
رپورٹ کے مطابق دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سطح کا سیلاب برقرار رہے گا، جب کہ دریائے چناب میں ہیڈ تریموں کے مقام پر اگلے 24 گھنٹوں میں انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر بھی 3 ستمبر کو بلند سطح کا سیلاب آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
دریائے چناب اور جہلم کی صورتحال
دریائے چناب کے مختلف مقامات پر پانی کی آمد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ قادرآباد اور خانکی کے مقام پر پانی کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگلے 24 گھنٹوں میں 3 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔
The people of Punjab have always shown generosity by supporting other provinces and communities in times of need. Now, it’s time for all provinces, states, and ethnicities to stand united and extend a helping hand to the flood victims in Punjab.
#FloodRelief #PunjabFloods2025 pic.twitter.com/N3k0EeAx05— Farid Ahmed (Qureshi) (@FaridQureshi_UK) August 30, 2025
چنیوٹ برج پر پانی کی آمد 6 لاکھ 14 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جسے ماہرین نے انتہائی بلند سیلابی صورتحال قرار دیا ہے۔
دریائے جہلم میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ منگلا کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دریائے راوی اور ستلج میں خطرے کی گھنٹی
دریائے راوی پر پانی کی سطح تشویش ناک ہو گئی ہے۔ شاہدرہ، بلوکی اور جسر کے مقامات پر پانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جن میں شاہدرہ کی صورتحال کو حکام نے ’انتہائی بلند‘ قرار دیا ہے۔
When it rains in Himachal, #Punjab pays the price. But now, when Punjab is #drowning, when people are crying for relief, why aren’t the gates of the #Rajasthan Feeder Canal being opened? Why is Punjab always treated as a dumping ground in times of crisis. #Floods #SavePunjab pic.twitter.com/wlER452th3
— Awaaz-E-Qaum (@awaazeqaum) August 28, 2025
اسی طرح دریائے ستلج میں بھی پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔ گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقامات پر پانی کا بہاؤ بلند ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر صورتحال کو ’انتہائی بلند‘ درجے میں شامل کیا گیا ہے۔
بارشوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور اور بہاولپور ڈویژن سمیت بالائی اور وسطی پنجاب میں بادل برسانے کی پیش گوئی ہے، جس سے دریاؤں میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوگا۔
متاثرین اور ریسکیو کارروائیاں
ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق اب تک سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 لاکھ 16 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے 4 لاکھ 81 ہزار افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ اضلاع میں 511 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ طبی امداد کے لیے 351 میڈیکل کیمپس اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے 321 ویٹرنری کیمپس بھی فعال ہیں۔ اب تک 4 لاکھ 5 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔
دریاؤں میں پانی کی صورتحال
ریلیف کمشنر کے مطابق دریائے چناب مرالہ پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا ہے، خانکی ہیڈ ورکس پر 1 لاکھ 70 ہزار، قادر آباد پر 1 لاکھ 71 ہزار اور ہیڈ تریموں پر 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جو بتدریج بڑھ رہا ہے۔
دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے، شاہدرہ پر 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک (جہاں کمی دیکھی جارہی ہے)، جب کہ بلوکی پر بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ ہیڈ سدھنائی پر آمد 32 ہزار اور اخراج 18 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ سلیمانکی پر یہ بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔
ڈیمز کی صورتحال
ریلیف کمشنر کے مطابق منگلا ڈیم 80 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکے ہیں۔ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج پر موجود بھاکڑا ڈیم 84 فیصد، پونگ ڈیم 94 فیصد اور تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سیلابی صورتحال میں ڈوبنے سے 30 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ لاہور میں آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں بھی 2 اموات ہوئیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق متاثرہ شہریوں اور کسانوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر بہاو میں اضافہ اور درمیانے درجے کا سیلاب
8AM= 164960/161960، 9AM= 175674/172674 pic.twitter.com/WkfYEtnTOe— FFDLahore (@ffdlhr) August 30, 2025
قصور میں تاریخ کا سب سے بڑا ریلا
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت میں بند ٹوٹنے کے بعد پانی قصور کی طرف بڑھا اور دریائے ستلج میں 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا ریلا آیا ہے۔
DGKhan Division/East Balochistan Hill Torrents Areas, latest Satellite Image/Weather#FFD #HillTorrents #FlashFlooding #StayAlert #StaySafe pic.twitter.com/EV6G46weLR
— FFDLahore (@ffdlhr) August 30, 2025
متاثرہ دیہات اور آبادی
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ تین دریاؤں کے سیلاب سے 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے چناب کے کنارے 1,179 دیہات، دریائے راوی کے ساتھ 478 اور دریائے ستلج کے ساتھ 391 دیہات پانی کی لپیٹ میں آگئے۔
ان کے مطابق دریائے چناب کے متاثرین کی تعداد تقریباً 9 لاکھ 66 ہزار، دریائے راوی کے ساتھ 2 لاکھ 32 ہزار اور دریائے ستلج کے ساتھ 3 لاکھ 13 ہزار تک جا پہنچی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں متاثرین کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارشیں
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ منڈی بہاوالدین میں 81 ملی میٹر، حافظ آباد 63، جہلم 50، سیالکوٹ 47، بہاولنگر 44، گجرات 34، فیصل آباد 32 اور شیخوپورہ میں 31 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
لاہور میں 26، چکوال میں 18، گجرانوالہ 14، خانیوال 12 اور جھنگ میں 10 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ راولپنڈی، کوٹ ادو، ساہیوال، سرگودھا اور قصور میں بھی بارشیں ہوئیں۔ مون سون بارشوں کا نواں اسپیل 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
بہاولپور میں انخلا کا عمل
دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد بہاولپور کے نشیبی علاقوں میں انخلا جاری ہے۔
مقامی حکام کے مطابق بستی پھلّاں، موزہ کرنانی، عباس نگر اور پتن سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
قصور اور سرحدی دیہات کو خطرہ
قصور میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر شدید سیلاب کے باعث متعدد سرحدی دیہات خالی کرانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
In the past two days, Engineer troops from Pakistan Army along with the Irrigation Dept of Punjab successfully managed the most severe flood battle in the history of Qadirabad Headworks on River Chenab.
Despite the barrage being designed for 800,000 cusecs, it withstood a… pic.twitter.com/kKQMAxzSGe
— Fidato (@tequieremos) August 29, 2025
انتظامیہ نے مان، تاتڑا، بھیڑ سوڈیاں، رسول نگر، فتوہی والا اور بزی د پور سمیت کئی دیہات کے باسیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔
ملتان اور جنوبی پنجاب میں صورتحال
مشرقی دریاؤں میں پانی کی بلند سطح کے باعث وسطی پنجاب میں سیلاب پھیلنے کے بعد آج شام تک ملتان میں بڑا ریلا داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ 3 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔ متاثرین نے انتظامیہ سے شکوہ کیا کہ کشتیاں کم ہیں اور مویشیوں کی منتقلی کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں۔
جلال پور پیر والا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جس سے 140 دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔ راجن پور اور بہاولپور میں بھی نشیبی علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
دریائے چناب کے ریلے سے وزیر آباد اور حافظ آباد متاثر ہیں اور 40 دیہات ابھی بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
Heroes in action. 1122 team rescuing puppies from drowning in flood. Humanity at its finest 🇵🇰 pic.twitter.com/rn12uWw7k7
— iffi (@iffiViews) August 27, 2025
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق نصیرآباد میں کیمپ آفس قائم کر دیا گیا ہے اور تمام متاثرہ اضلاع میں محفوظ مقامات کی نشاندہی ہو چکی ہے۔
وہاڑی اور گردونواح کی صورتحال
دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا اخراج 3 لاکھ 3 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔ ہیڈ اسلام پر آمد 63 ہزار 263 اور اخراج 62 ہزار کیوسک ہے، جب کہ ہیڈ سلیمانکی پر آمد و اخراج 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ وہاڑی نے 133 بستیوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اب تک 49 ہزار سے زائد افراد متاثر، 30 ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر فصلیں تباہ اور 3 ہزار 281 مویشی ریسکیو کیے گئے ہیں۔
سیلابی صورتحال کے باعث پنجاب کے 9 اضلاع میں پولیو مہم مؤخر
صوبہ پنجاب کے 9 اضلاع میں جاری سیلابی صورتحال کے باعث انسداد پولیو مہم ملتوی کر دی گئی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق لاہور، شیخوپورہ، قصور، اوکاڑہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان، مظفرگڑھ اور بہاولپور میں مہم مؤخر کی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق راولپنڈی، میانوالی، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، اٹک، راجن پور اور رحیم یار خان میں پولیو مہم اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گی۔
این ای او سی کا کہنا ہے کہ پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں انسداد پولیو مہم یکم ستمبر سے حسبِ اعلان شروع ہوگی۔
بلوچستان میں خطرے کی گھنٹی
پنجاب کے بعد بلوچستان میں بھی سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیر آبپاشی بلوچستان صادق عمرانی نے کہا ہے کہ 2 ستمبر کو دریائے سندھ کا بڑا ریلا بلوچستان میں داخل ہوسکتا ہے، جس سے جعفر آباد، روجھان، اوستہ محمد اور صحبت پور متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور نصیر آباد میں کیمپ آفس قائم کر دیا گیا ہے۔
پنجاب میں سیلاب سے 30 ہلاکتیں اور لاکھوں متاثرین ہیں، مریم اورنگزیب
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا ہے کہ صوبے میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ سیلاب سے 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
مزید پڑھیں: موسلادھار بارشوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خطرہ
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ 3 بڑے دریاؤں کے سیلاب سے 2 ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے، جن میں دریائے چناب کے پانی سے 1 ہزار 169، دریائے راوی سے 462 اور دریائے ستلج سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔

وزیر نے مزید کہا کہ صوبے میں 351 ریلیف اور میڈیکل کیمپس 24 گھنٹے متاثرین کی مدد اور دیکھ بھال کے لیے فعال ہیں، اور موسلادھار بارش کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
دریائے سندھ میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خدشہ
دوسری جانب سندھ حکومت نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جس کے باعث 16 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کو وزیر آبپاشی جام خان شورو نے دریائی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 83 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا، جبکہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 13 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 59 ہزار کیوسک ہے۔
جام خان شورو کے مطابق کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 64 ہزار اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے اور فی الحال بیراجوں کی مجموعی صورتحال تسلی بخش ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں سیلاب سے 30 ہلاکتیں اور لاکھوں متاثرین ہیں، مریم اورنگزیب
وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایات
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تمام محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزرا براہ راست اقدامات کی نگرانی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے، لہٰذا دریا کے کناروں یا کچے کے علاقوں میں رہنے والے لوگ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر دریا کے بند اور نہری نظام کی مسلسل نگرانی کی جائے۔

شرجیل میمن کی پریس کانفرنس
ادھر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کراچی میں فلڈ کنٹرول روم کا افتتاح کیا۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ دو یا تین ستمبر تک بڑا ریلہ دریائے سندھ میں داخل ہوسکتا ہے جس سے 16 لاکھ افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے، تمام وزرا فیلڈ میں موجود ہیں، اس لیے قیاس آرائیوں سے اجتناب کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:موسلادھار بارشوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خطرہ
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ کچے کے علاقوں میں رہنے والی آبادی کو بروقت آگاہ کریں اور نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھیں۔

بیراجوں کی نگرانی اور موجودہ صورتحال
شرجیل میمن نے بتایا کہ ہر تین گھنٹے کے بعد بیراجوں پر پانی کی آمد و اخراج سے متعلق معلومات جاری کی جائیں گی۔ ان کے مطابق حکومت کی مشینری کچے کے علاقوں میں موجود ہے، جہاں مقامی لوگ پانی کی سطح میں اضافے پر خود بخود محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے وضاحت کی کہ فی الحال بیراجوں میں پانی ان کی گنجائش کے مطابق ہی آ رہا ہے اور بند توڑنے کی کوئی صورتحال درپیش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کے مطابق حالات فی الوقت قابو میں ہیں اور اگر مزید بارشیں نہ ہوئیں تو صورتحال معمول پر رہنے کی توقع ہے۔ شہروں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔














