ملتان کی حدود میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا آج شام تک داخل ہونے کا امکان ہے۔ شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر حفاظتی بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
Flood fury hits India too, visuals from Ravi River in Chamba, Himachal Pradesh. pic.twitter.com/y7zMdx5CSX
— Mansoor Ahmed Qureshi (@MansurQr) August 29, 2025
میڈیا رپورٹ کے مطابق سیلاب کے خطرے کے پیش نظر 3 لاکھ سے زائد افراد اپنی بستیوں اور گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی بروقت منتقلی کے انتظامات نہ ہونے پر انتظامیہ سے شکایات بھی کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی: پنجاب میں درجنوں افراد جاں بحق، جنوبی اضلاع اور سندھ کے لیے ہائی الرٹ
ادھر جلالپور پیر والا کے قریب دریائے ستلج میں 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جس سے 140 دیہات زیرِ آب آگئے۔
اسی طرح راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث نشیبی علاقوں سے لوگ پہلے ہی نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ بہاولپور میں بھی دریائے ستلج کے کناروں پر انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔
پنجاب حکومت Flood Effected ایریاز میں پھنسے مال مویشی لوگوں قیمتی سامان کو ریسکیو کرنے نگرانی کیلئے تھرمل ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہے اس شاندار ٹیکنالوجی کا استعمال اپنی نوعیت میں ایک شاندار انوکھا قدم ہے ویلڈن 🙌 pic.twitter.com/83uIBkUpsf
— Expose Propaganda (@EPropoganda1) August 28, 2025
فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں بھی سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ ہے اور دریائی و نشیبی علاقوں کے مکینوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122، مقامی رضا کاروں کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پاکستان رینجرز بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔