اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سٹی کو ’وار زون‘ قرار دے دیا گیا ہے اور اب یہاں عارضی جنگ بندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ اور ٹینک کئی روز سے غزہ سٹی پر شدید حملے کر رہے ہیں، جبکہ بکتر بند یونٹس شہر کے گرد تعینات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی وزیر کا غزہ کے الحاق کا مطالبہ، حماس کا سخت ردعمل
اندازہ ہے کہ ممکنہ حملے کی صورت میں تقریباً دس لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔
اس فیصلے کے بعد امدادی اداروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ جنگ بندی کے تحت قائم کچھ محفوظ علاقے ختم کر دیے گئے ہیں۔
تاہم جنوبی اور وسطی غزہ کے چند حصوں میں محدود جنگ بندی اب بھی جاری ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط کی صورتحال مزید خطرناک ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں قحط: امداد کو ہتھیار بنانے کی اسرائیلی حکمتِ عملی
عالمی ادارہ خوراک کے مطابق غزہ کے دو ملین شہریوں میں سے پانچ لاکھ سے زائد لوگ بھوک اور موت کے قریب ہیں، اور یہ تعداد ستمبر کے آخر تک بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی سے حماس کا خاتمہ ہی اسرائیلی مغویوں کی رہائی کا راستہ ہے۔
تاہم مغویوں کے اہلخانہ اس حکمتِ عملی کو اپنے پیاروں کے لیے خطرہ قرار دے کر احتجاج کر رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔