معروف شاعر و محقق پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم دوران مشاعرہ انتقال کرگئے

اتوار 31 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

استعارہ ہیں کسی شہر خموشاں کا نذیر

یہ مرا شہر پشاور‘مرے مرتے ہوئے لوگ

پشاور کے نامور شاعر، محقق اور استاد پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم ہفتے کی شب دوران مشاعرہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

وہ اردو شاعری اور تحقیق میں ایک نمایاں شناخت رکھتے تھے اور اپنے ادبی کام کے ذریعے اردو ادب میں گراں قدر اضافہ کیا۔

ڈاکٹر نذیر تبسم کا اصل نام نذیر احمد تھا۔ وہ 4 جنوری 1950 کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مچھی ہٹہ سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم پشاور یونیورسٹی سے مکمل کی۔

مزید پڑھیں: کراچی میں یوم آزادی کی رنگا رنگ تقریبات، ایکسپو سینٹر میں معرکہ حق مشاعرہ

1974 میں انہوں نے ایم اے اردو کیا اور 2003 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ ’سرحد کے اردو غزل گو شعرا: قیام پاکستان کے بعد‘ علمی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

مجھے بچوں سے خوف آنے لگا ہے

وہ بچپن ہی میں بوڑھے ہو گئے ہیں

عہدِ شباب کی یادگار

انہوں نے تدریسی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ فیڈرل گورنمنٹ کالج اسلام آباد اور اسلامیہ کالج پشاور میں پڑھانے کے بعد 1978 میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوئے اور 2010 میں وہیں سے ریٹائر ہوئے۔ ان کے شاگرد آج ملک بھر میں تدریسی و ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: 100 برس کے مشیر کاظمی

نذیر تبسم بنیادی طور پر ایک شاعر تھے۔ ان کے 3 شعری مجموعے ’تم اداس مت ہونا‘، ’کیسے رائیگاں ہوئے ہم‘ اور ’ابھی موسم نہیں بدلا‘ منظر عام پر آئے۔ ان کی شاعری میں داخلی کیفیات، عصری آشوب اور پشاور کی تہذیبی جھلک نمایاں ہے۔

2010 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ان کا شعر اخبارات کی سرخیوں میں رہا:
کہاں کا سلسلہ تھا اور کہاں تک آگیا ہے
مگر سیلاب خطرے کے نشان تک آگیا ہے

ان کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین مختلف جرائد میں شائع ہوئے جبکہ وہ بزم سخن، حلقۂ ارباب ذوق، انجمن ترقی پسند مصنفین اور دیگر ادبی انجمنوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

شعری مجموعہ ’تم اداس مت ہونا‘ کا پیش لفظ

ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نذیر تبسم کی وفات پشاور اور خیبر پختونخوا کے ادبی منظرنامے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کا نام ہمیشہ اردو ادب کے معتبر نقوش میں شامل رہے گا۔

مزید پڑھیں: 8 نومبر: یوم انور مسعود

نذیرؔ لوگ تو چہرے بدلتے رہتے ہیں
تو اتنا سادہ نہ بن مسکراہٹیں پہچان

یاد رہے کہ معروف شاعر ماہر القادری بھی 12 مئی، 1978 کو جدہ کے ایک مشاعرہ کے دوران انتقال کر گئے تھے اور مکہ مکرمہ میں جنت المعلیٰ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp