کیا پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہونے جارہا ہے؟

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ جاری رکھنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے نے پاکستان میں مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کرنے کی دستک دے دی ہے۔

عالمی مارکیٹ کے دباؤ اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث وفاقی حکومت کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے فیصلہ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر تک کے بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:روسی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی امریکا سے خصوصی استثنیٰ کی اپیل

عالمی صورتحال اور قیمتوں کا تقابل

 تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 6.95 فیصد اضافے کے ساتھ 108.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 6.56 فیصد بڑھ کر 106.70 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ یہ گزشتہ 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

اس عالمی لہر کا براہ راست اثر پاکستان کی درآمدی لاگت پر پڑا ہے جہاں پیٹرول کی اصل قیمت اور فروخت میں 100 روپے جبکہ ڈیزل میں 200 روپے سے زائد کا فرق آچکا ہے۔

آئی ایم ایف کا سخت مؤقف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کو واضح طور پر متنبہ کیا ہے کہ پیٹرول پر عام سبسڈی فوری طور پر ختم کی جائے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ طویل مدتی سبسڈی معیشت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ عوام کو سستا پیٹرول دینے کے بجائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت فراہم کیے جانے والے اعزازیہ میں 5000 روپے کا اضافہ کیا جائے تاکہ صرف مستحق افراد کی مدد ہو سکے۔

حکومتی حکمتِ عملی اور صوبوں کا کردار

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے قیمتوں میں اضافے پر اتفاق کر لیا ہے، وفاقی حکومت اب تک 129 ارب روپے کی فیول سبسڈی خود برداشت کر چکی ہے۔

تاہم اب صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت کے بعد صوبوں کو بھی اس مالی بوجھ میں شریک کیا گیا ہے۔ پنجاب اور سندھ این ایف سی فارمولے کے تحت جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان ایندھن کی کھپت کے تناسب سے اپنا حصہ ڈالیں گے۔

تین مرتبہ اضافے کی سمری مسترد

حکومت نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عوامی ریلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے اوگرا کی 3 مختلف تجاویز کو مسترد کیا تھا تاکہ مہنگائی کے بوجھ کو روکا جا سکے۔

مزید پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات: برطانوی پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں

مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد ایک ہی مرتبہ قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا، مگر اب عالمی منڈی میں قیمتوں کے بے لگام ہونے کے باعث حکومت پر قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔

اوگرا کی جانب سے حتمی حساب کتاب مکمل ہونے کے بعد کل شام تک نئی قیمتوں کے حوالے سے سمری بھیجی جائے گی جس کے بعد باضابطہ قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp