آئرش اداکار لیام کننگھم نے چند روز قبل اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والی فلسطینی بچی فاطمہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یہ تقریب اسپین سے غزہ روانہ ہونے والی گلوبل صمود فلوٹیلا کے روانگی سے قبل منعقد ہوئی جو اب تک غزہ جانے والا سب سے بڑا سول مشن قرار دیا جا رہا ہے۔
لیام کننگھم نے روانگی سے قبل خطاب میں ایک آڈیو کلپ چلایا جس میں 6 سالہ فاطمہ ایک گیت گا رہی تھی۔ اس معصوم بچی نے کہا تھا کہ یہی گیت اس کی تدفین پر بھی سنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل نے غزہ جانے والی کشتی میں سوار گریٹا تھنبرگ اور 3 دیگر کو ملک بدر کر دیا
کننگھم نے سامعین سے سوال کیا کہ یہ کیسی دنیا ہے جہاں ایک ننھی بچی اپنی ہی تدفین کے لیے گیت گانے کی خواہش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک شرمناک صورتحال ہے اور ان کے اپنے پوتے پوتیاں بھی سوال کرتے ہیں کہ ہم اس سب کو برداشت کیسے کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فاطمہ کو 4 دن پہلے قتل کر دیا گیا اور آج کوئی اس کے جنازے پر وہی گیت گا رہا ہوگا۔ کننگھم نے فلوٹیلا کو عالمی انسانی قوانین اور عالمی ضمیر کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ یہ عرب دنیا کی تاریخ کا ایک شرمناک دور ہے۔
Irish actor Liam Cunningham paid tribute to slain Palestinian child Fatima ahead of the departure of the Global Sumud Flotilla, the largest civilian mission to Gaza from Spain pic.twitter.com/l03jFggan2
— TRT World (@trtworld) August 31, 2025
اس موقع پر فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن نے بتایا کہ اب تک 30 ہزار افراد ان کے ساتھ شامل ہوچکے ہیں۔ دنیا کے 44 ممالک سے کارکنان شخصیات اور سماجی تحریکوں کے نمائندے بارسلونا سے غزہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کا مقصد غزہ پر عائد اسرائیلی محاصرے کو توڑنا اور انسانی راہداری کھولنا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ وہ اسرائیلی ریاست کے جرائم پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ وہ عالمی شراکت داری ختم کرنا چاہتے ہیں اور فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہم غزہ میں بھوک اور موت کو روکنے کے لیے نکلے ہیں تاکہ انصاف اور آزادی کی راہ ہموار ہو۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 63 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 70 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔














