ایک بڑی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جانوروں سے حاصل ہونے والا پروٹین نہ صرف قبل از وقت اموات کے خطرے سے منسلک نہیں بلکہ یہ کینسر سے متعلقہ اموات کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
تحقیق کاروں کی جانب سے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے میں شامل 19 برس یا اس سے زائد عمر کے تقریباً 16 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتائج سائنسی جریدے اپلائیڈ فزیالوجی، نیوٹریشن اینڈ میٹابولزم میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیق میں شرکا کی خوراک میں موجود جانوروں اور پودوں سے حاصل کردہ پروٹین کی مقدار اور ان کے کینسر، امراضِ قلب یا کسی بھی وجہ سے موت کے امکانات کا موازنہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گوشت کی قیمتوں کا نیا عالمی ریکارڈ، چین اور امریکا کی درآمدی طلب میں اضافہ
نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ جانوروں کا پروٹین استعمال کرنے والوں میں کینسر سے ہونے والی اموات کا خطرہ تھوڑا لیکن معنی خیز حد تک کم تھا۔
Eating meat not linked to higher risk of death — and may even protect against cancer-related mortality: study https://t.co/RUv53XBusL pic.twitter.com/CnAhl0nMyt
— New York Post (@nypost) August 27, 2025
تحقیق کی نگرانی کرنے والے میک ماسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹورٹ فلپس کے مطابق پروٹین کے بارے میں بہت ابہام پایا جاتا ہے۔
’پروٹین، کتنا کھایا جائے، کس نوعیت کا ہواوراس کے طویل مدتی اثرات کیا ہیں، یہ تحقیق اس حوالے سے وضاحت فراہم کرتی ہے جو عوام کے لیے سائنسی بنیادوں پر بہتر انتخاب کرنے میں مددگار ہے۔‘
مزید پڑھیں: امریکا میں پہلی مرتبہ گوشت خور پیراسائٹ سے انسانوں کے متاثر ہونے کی تصدیق
مزید درست نتائج حاصل کرنے کے لیے تحقیق کاروں نے جدید شماریاتی طریقے اپنائے، جن میں نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میتھڈ اور ملٹی ویریئیٹ مارکوف چین مونٹی کارلوماڈل شامل تھے۔
ان سے پروٹین کی یومیہ مقدار میں اتار چڑھاؤ کو مدِنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی غذائی عادات کی زیادہ درست تصویر سامنے آئی۔

تحقیق کے مطابق کل پروٹین، جانوروں کا پروٹین یا پودوں کا پروٹین، کسی بھی قسم کا زیادہ استعمال موت، امراضِ قلب یا کینسر کے خطرے میں اضافہ نہیں کرتا، تاہم جانوروں سے حاصل ہونے والے پروٹین نے کینسر سے بچاؤ میں ہلکا سا حفاظتی کردار ضرور دکھایا۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد میں لوگ گوشت کھانے سے خوفزدہ کیوں ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشاہداتی مطالعات براہِ راست ’سبب و نتیجہ‘ ثابت نہیں کرسکتے، مگر یہ بڑے پیمانے پر رحجانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دہائیوں پر محیط طبی تحقیقات کو مدِنظر رکھتے ہوئے نتائج اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ جانوروں کے پروٹین کو صحت مند غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے سربراہ یانی پاپانیکولاو کے مطابق جب مشاہداتی اور کلینیکل دونوں طرح کے شواہد کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پودوں اور جانوروں دونوں سے حاصل کردہ پروٹین انسانی صحت اور طویل عمری کے لیے معاون ہیں۔














