ترکیہ صدارتی انتخابات: کیا رجب طیب ایردوان شکست کھا جائیں گے؟

جمعہ 12 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کے ’صدارتی‘ اور ’پارلیمانی انتخابات‘ میں ووٹ ڈالنے کے لیے لاکھوں افراد اگلے ہفتے انتخابات میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ  ’یہ انتخابات موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کے 20 سالہ دور حکومت کا مشکل ترین امتحان ثابت ہوں گے۔

طیب ایردوان اور ان کی ’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘

مبصرین کے مطابق اس وقت مشکلات سے دوچار ملک کی معیشت نے طیب ایردوان کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے جب کہ ان کے حریفوں نے ان کی اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کے اندر ملکی حالات کو بہتر کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن طیب ایردوان اور ان کی ’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘ ( اے کے پارٹی) کو اب بھی قوم پرستوں اور مذہبی قدامت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کی زبردست حمایت حاصل ہے۔

طیب ایردوان کو اس وقت ترکیہ کے اناطولیہ کے مرکز میں جسے حزب اختلاف کی جماعتیں فتح کرنے کے خواب دیکھ رہی ہیں وہاں سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔

جولائی 2018 میں ترکیہ پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی جانب گامزن ہوا۔

ترکیہ کے انتخابات کب ہوں گے؟

صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہر پانچ سال بعد ایک ہی دن ہوتے ہیں۔ اس سال انتخابات ابتدائی طور پر 18 جون کو ہونا تھے تاہم یہ الیکشن 25 روز قبل 14 مئی کو ہو رہے ہیں۔

ترکیہ کا انتخابی نظام کیسے کام کرتا ہے؟

جولائی 2018 میں ترکیہ پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی جانب گامزن ہوا۔ نئے ’صدارتی نظام‘ میں ووٹرز براہِ راست صدر کا انتخاب کرتے ہیں اس نئے نظام کے تحت وزیراعظم کا کردار ختم کر دیا گیا ہے۔

ایک امیدوار کو جیتنے کے لیے نصف سے زیادہ صدارتی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی صدارتی امیدوار بھی 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے تک نہیں پہنچ پاتا ہے تو سرفہرست 2 امیدوار 2 ہفتوں بعد ’رن آف ووٹ‘ کے تحت دوبارہ مدِ مقابل ہوں گے۔

ووٹرز گرینڈ نیشنل اسمبلی کے 600 ممبران کا انتخاب بھی کرتے ہیں، اسے ترک پارلیمنٹ کا نام دیا گیا ہے، ووٹرز متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت اپنے حلقے میں اپنی پارٹی کے امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں۔

ایک امیدوار کو جیتنے کے لیے نصف سے زیادہ صدارتی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

امیدوار کون ہیں اور وہ کیا وعدہ کر رہے ہیں؟

رجب طیب ایردوان:

اس وقت 69 سالہ رجب طیب ایردوان عوامی اتحاد اور ان کی ’اے کے ‘ پارٹی اور دیگر کئی دائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کے ساتھ انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

اپنے 20 سالہ دور حکمرانی سے قبل ایردوان 2014 میں صدر بننے سے قبل 11 سال تک وزیراعظم رہے۔

رجب طیب ایردوان نے 2000 اور 2010 کی دہائی کے اوائل میں ترکیہ کی معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سے عوام رجب طیب ایردوان کے حامیوں میں اضافہ ہوا اور آج وہ انہیں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

طیب ایردوان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ رجب طیب ایردوان کے دور حکومت میں ان کی زندگیوں میں زبردست بہتری آئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ طیب ایردوان نے بین الاقوامی سطح پر ترکیہ کو مضبوط کیا اور ملک کے اثر و رسوخ کو عالمی سطح پر بہتر کیا۔

ایردوان کی مقبولیت میں کمی

ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ طیب ایردوان اس وقت بھی مضبوط ترین امیدوار ہیں لیکن گزشتہ 18 مہینوں میں ملک کی معاشی صورت حال میں ابتری کے باعث ان کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اپنے 20 سالہ دور حکمرانی سے قبل ایردوان 2014 میں صدر بننے سے قبل 11 سال تک وزیراعظم رہے۔

طیب ایردوان پراپوزیشن گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے جب کہ حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ 2016 کی بغاوت کی کوشش اور ‘دہشت گرد’ گروپوں کے خطرے کے بعد یہ اقدامات اٹھانا ضروری تھے۔

ایردوان کے وعدے

14 مئی کے انتخابات کے حوالے سے سب طیب ایردوان نے قوم کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ صدارتی نظام کا تسلسل، کم شرح سود اور ایک مضبوط اور آزاد ترکیہ جس کا اثر و رسوخ پورے خطے میں ہو،کے لیے جدوجہد کریں گے۔

کمال کلیک دار اوغلو

طیب ایردوان کے سب سے بڑے حریف 74سالہ کمال کلیک دار اوغلو ہیں وہ اس وقت ’نیشنل الائنس‘ کی 6 اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہیں

اوغلو خود کو ایک ‘جمہوریت پسند’ کے طور پر پیش کر رہے ہیں اوروہ عوام کے اندر بدعنوانی کے خلاف بیان بازی کرنے کے باعث مقبول ہیں، لیکن دوسری جانب ان پر مغربی ممالک کے بہت قریب ہونے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے۔

اوغلو اس وقت بائیں بازو کی ’ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کی قیادت کر رہے ہیں۔

اوغلو مضبوط امیدوار نہیں

مخالفین کا کہنا ہے کہ پے در پے انتخابی شکست کھانے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طیب ایردوان کو شکست دینے اور ترکیہ کی قیادت کرنے کے لیے اتنے مضبوط امیدوار نہیں ہیں۔

اوغلو کے اپنے اتحاد کی ایک سرکردہ رکن، قوم پرست پارٹی کی سربراہ میرل اکسینر نے ابتدائی طور پر مارچ میں اغلو کو صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کرنے کی مخالف کر دی تھی۔ میرل نے الزام لگایا تھا کہ اوغلو پہلے اپنی پوزیشن واضح کریں۔

کلیک دار اوغلو سیاست سے پہلے وزارت خزانہ کے وزیر تھے اور پھر 1990 کی دہائی کے بیشتر عرصے تک ترکیہ کے سوشل انشورنس انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

طیب ایردوان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ رجب طیب ایردوان کے دور حکومت میں ان کی زندگیوں میں زبردست بہتری آئی ہے۔

کلک دار اوغلو کے وعدے

کلک دار اوغلو نے عوام سے وعدے کیے ہیں کہ وہ منتخب ہو کرواپس ‘مضبوط پارلیمانی نظام’ قائم کریں گے۔ کردوں کے مسئلے کو حل کریں گے، شامی مہاجرین کو وطن واپس بھیجیں گے اوریورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات کو بڑھائیں گے۔

محّرم اِنجے

ترکیہ کے صدارتی انتخابات کے لیے تیسرے مضبوط امیدوار ’ہوم لینڈ پارٹی کے 59 سالہ امیدوارمحّرم اِنجے ہیں۔ وہ اس وقت بغیر کسی اتحاد کے عوام کی بھرپور حمایت کے دعویدار تھے، انہوں نے اپنی تحریک کو ‘تیسرا راستہ’ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اچانک انتخابی دوڑ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔

انتخاب سے فرار

میڈیا رپورٹس کے مطابق محّرم اِنجے نے انتخابی دوڑ سے راہ فرار مبینہ جنسی ٹیپ کے جاری ہونے کے بعد اختیار کی ہے۔

صدارتی انتخابات سے دستبرداری کے اعلان سے قبل ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے محّرم اِنجے کا کہنا تھا کہ: ’ میری دستبرداری کا ایک سبب جھوٹی فحش ویڈیو جاری کرنا ہے، گزشتہ 45 روز سے میری عزت اچھالی جا رہی ہے،  جس سے میری کردار کشی ہوئی۔

محّرم اِنجے کی دستبرداری ایردوان کے لیے نقصان دہ کیوں؟

مبصرین کا کہنا ہے کہ محرم اینس کی جانب سے صدارتی انتخابات سے دستبرداری کا سب سے زیادہ فائدہ دیگر امیدواروں کو ہو گا تاہم ان کے اس عمل سے سب سے مضبوط صدارتی امیدوار رجب طیب ایردوان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

طیب ایردوان پراپوزیشن گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے ۔

اوگن

ترکیہ کے چوتھے صدارتی امیدوار 55 سالہ اوگن ہیں وہ اس وقت 3 جماعتوں کے قوم پرست اتحاد ’ اے ٹی اے‘ کے امیدوار ہیں ان کا پس منظر ایک تعلیمی اور بین الاقوامی مالیاتی ترقی کے ماہر مانے جا رہےہیں۔

وہ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) کے سابق رکن بھی رہے ہیں ان پرغیر انسانی اور انتہائی دائیں بازو کی پالیسیاں رکھنے کا الزام ہے۔

اوگن کے وعدے

انہوں نے عوام سے وعدے کیے ہیں کہ وہ مہاجرین کو ان کے آبائی علاقوں اور ممالک میں واپس بھجیں گے اور ترک ریاستوں کو واپس متحد کریں گے۔

ترکیہ کے انتہائی اہم مسائل کیا ہیں؟

معیشت

شرح سود میں کمی نے 2021 کے آخر میں کرنسی کے بحران کو جنم دیا، جس سے افراط زر کی شرح گزشتہ سال 85.51 فیصد کی نسبت 24 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

لیکن طیب ایردوان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس نے ترکیہ کی معیشت میں انقلاب برپا کیا ہے، بنیادی ڈھانچہ کو بہتر انداز میں تعمیر کیا ہےاور ایسے علاقوں میں ترقی کو فروغ دیا ہے جنہیں روایتی طور پر مرکزی ترک حکومت نظر انداز کرتی آ رہی تھی۔

ترکیہ میں زلزلے

6 فروری کو جنوب مشرقی ترکیہ میں آنے والے دو بڑے زلزلوں سے 50,000 سے زیادہ افراد جاں بحق اور بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر تباہ ہوا جس کے بعد تعمیر نو پر اربوں ڈالر لاگت آئے گی۔ ایک اندازے کے مطابق 14 ملین افراد جو کہ ترکیہ کی 16 فیصد بنتی ہے اس حالیہ زلزلے سے بری طرح متاثر ہوئی۔

ملک سے ہجرت

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ملک کے پڑھے لکھے اور اعلیٰ ہنر مند افراد کی ایک بڑی تعداد سیاسی اور معاشی خدشات کے پیش نظر ملک چھوڑ رہی ہے۔ ترکیہ کے ادارہ شماریات کے مطابق، 20 سے 29 سال کی عمر کے 286,000 افراد 2019 اور 2021 کے درمیان ترکیہ کو خیر آباد کہہ کر دوسرے ممالک میں چلے گئے ہیں۔

ترکیہ کی اقدار اور شناخت

طیب ایردوان نے بطور وزیراعظم 2013 میں پبلک سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین پر سے حجاب پہننے کی پابندی ہٹا دی تھی، اس اقدام کو بہت سے لوگوں نے معاشرے میں ان کے مقام اور ان کی مذہبی پابندی میں رعایت کے عمل کو سراہا تھا۔

ترکیہ میں جمہوریت

طیب ایردوان کے مخالفین نے ان پر 2016 کی ناکام بغاوت کے بعد ہزاروں افراد کو گرفتار کرنے کا الزام لگایا، ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ طیب ایردوان نے آزادی صحافت پر بھی قدغن لگا رکھی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ترک میڈیا کے 90 فیصد ادارے ایردوان کی حکومت اور ان کے قریبی تاجروں کے کنٹرول میں ہیں۔

مہاجرین کا مسئلہ

اس وقت شامی اور ترک کمیونٹیز کے درمیان تشدد، بدسلوکی اور جرائم کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے بعد مہاجرین مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔

حکومت کے مطابق ترکیہ میں موجود کل 5.5 ملین غیر ملکیوں میں سے تقریباً 3.7 ملین شامی پناہ گزین ہیں۔ دوسری جانب پناہ گزینوں سے متعلق حکومت کی پالیسی کی بین الاقوامی سطح پر تعریف کی گئی ہے، لیکن حزب اختلاف کے امیدوار مہاجرین کے خلاف نفرت کو بھڑکا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ایس ایل 11، کراچی کنگز نے معین علی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا

قازقستان کا پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو منگوانے کا ارادہ

میں اور بھائی والد سے ملنے آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ویزا نہیں دے رہی، عمران خان کے بیٹےکا شکوہ

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ملاقات ضرور ہوگی، وقت اور جگہ کا تعین تاحال نہیں ہوا، رانا ثنااللہ

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

پورا پاکستان بھی اگر بسنت فیسٹیول منانے لاہور آجائے تو ہم ٹریفک کنٹرول کر لیں گے ۔سی ٹی او لاہور اطہر وحید

پاکستان اور امریکا ایران مذاکرات، پی ٹی آئی احتجاج اور بھارت میچ بائیکاٹ کی اپ ڈیٹ

وی ایکسکلوسیو: دہشتگردی کے خلاف لڑائی کسی فرد یا ادارے کی نہیں پوری قوم کی جنگ ہے، انوارالحق کاکڑ

کالم / تجزیہ

فاطمہ بھٹو کس قیامت سے گزریں؟

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟