پاکستان کی خواتین معشیت کی خاموش مجاہدین، کیا اعدادوشمار درست عکاسی کرتے ہیں؟

پیر 1 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں تقریباً 56 لاکھ گھرانے کسی نہ کسی معاشی سرگرمی میں شریک ہیں اور ان میں سے نصف سے زیادہ خاندانوں کی آمدن کا ذریعہ مویشی پالنا ہے لیکن دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں خواتین سلائی، کڑھائی، گھریلو اشیا کی تیاری اور بیوٹی پارلرز جیسے چھوٹے کاروبار کے ذریعے بھی روزگار حاصل کر رہی ہیں اگرچہ ان کا حصہ اعداد و شمار میں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں سیلابی صورتحال، ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ خواتین معاشی بحران کا شکار

ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک معاشی مردم شماری کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 4 فیصد گھرانے سلائی اور 1.4 فیصد کڑھائی کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں اور ان دونوں پیشوں میں زیادہ تر خواتین سرگرم ہیں۔

علاوہ ازیں خواتین فوڈ پیکنگ، آن لائن سروسز، گھریلو کھانوں کی فروخت اور بیوٹی پارلر جیسی سرگرمیوں میں بھی شامل ہیں مگر ان کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: بڑھتی آبادی معیشت کے لیے چیلنج، نوجوان اور خواتین کو مواقع دیے جائیں، وزیراعظم

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ خواتین کی معاشی شراکت صرف ان اعداد و شمار سے نہیں سمجھی جا سکتی۔

معاشیات کی ماہر ڈاکٹر فاخرہ نورین کا کہنا ہے کہ خواتین کے معاشی اور سماجی کردار کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اکثر مردم شماری یا سروے کے دوران خواتین سے براہ راست بات ہی نہیں کی جاتی۔ معلومات فراہم کرنے والا عام طور پر مرد ہوتا ہے جو شعوری یا غیر شعوری طور پر خواتین کی محنت کو نظرانداز کر دیتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں خواتین مویشی پالنے، دودھ بیچنے، دیسی گھی یا اچار تیار کرنے اور مرغیاں رکھنے جیسے کاموں کے ذریعے گھر کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں جو کہ بہت حد تک نظرانداز کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: دومیل پائیں کی جفا کش خواتین گھر اور کھیت دونوں محاذوں پر سرخرو

لاہور میں بیوٹی پارلر اور سلائی کڑھائی کا مرکز چلانے والی قرۃ العین نے اپنی ذاتی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ میں نے ابتدا میں یہ کاروبار گوجرانوالہ میں شروع کرنا چاہا لیکن برادری کے دباؤ کی وجہ سے لاہور منتقل ہونا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ آج کاروبار کامیاب ہے لیکن ہر بار جب اس کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں بیٹیوں کے رشتوں سے متعلق خدشات ابھرنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کی صحافی خواتین: ہمت، جدوجہد اور تبدیلی کی کہانی

قرۃ العین کے مطابق جب تک خواتین کو یہ اعتماد حاصل نہیں ہوتا کہ وہ کہیں بھی دکان یا چھوٹا کاروبار کھول سکتی ہیں اور معاشرہ انہیں عجیب نظروں سے نہیں دیکھے گا تب تک وہ اپنی معاشی آزادی کے لیے لڑتی رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم سے ‘غزہ بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی

پاکستان کی بھارت کیخلاف سنسنی خیز فتح، ایف 2 ڈبل وکٹ سیمی فائنل میں جگہ بنالی

ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ کی شادی کی 21ویں سالگرہ، وائٹ ہاؤس کی مبارکباد

فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا جلد پاکستان کے دورے کا اعلان

خیبرپختونخوا: مصنوعی ذہانت کے جدید ترین کیمروں سے لیس سیف سٹی منصوبہ، کیا قیامِ امن میں مدد ملے گی؟

ویڈیو

کوئٹہ اور بالائی اضلاع میں برفباری کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

چکوال کی سائرہ امجد کا منفرد آرٹ: اسٹیل وول اور ایکرلیک سے فطرت کی عکاسی

وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور

کالم / تجزیہ

کیمرے کا نشہ

امریکی خطرناک ہتھیار جس نے دیگر سپرپاورز کو ہلا دیاٖ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے