سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع اور زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، بلاول بھٹو

پیر 8 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بلاول بھٹو متحرک، مریم نواز کی عمدہ کارکردگی کا اعتراف

مظفرگڑھ میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ زرعی ایمرجنسی کے تحت متاثرہ کسانوں کے بجلی کے بل معاف کیے جائیں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ سیلاب زدگان کی مدد ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست کی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو کسانوں کی مدد کرنی چاہیے، چاہے وہ قرضوں کی معافی کی صورت میں ہو یا بیج کی مفت فراہمی جیسے دیگر اقدامات کے ذریعے، اور ساتھ ہی سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے بجلی کے بل بھی معاف کیے جائیں۔ لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت میں جب وہ وزیر خارجہ تھے، تو مل کر سیلاب متاثرین کے لیے نئے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اس سیلاب میں متاثر ہونے والوں کی مدد کرنی چاہیے۔

انہوں نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے اپیل کی کہ جب اقوام متحدہ میں امداد کے لیے اپیل کی جائے تو اس میں دو طرح کی درخواستیں شامل ہوں: ’ایک فوری ریلیف اور ایمرجنسی کے لیے، اور دوسری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بحالی کے لیے ہونی چاہیے۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی سطح پر مدد کے لیے فوری اپیل کرنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان کے بہت سے دوست ممالک مدد کے لیے تیار ہیں، لیکن جب تک ہم اپیل نہیں کریں گے، یہ مدد ممکن نہیں ہوگی۔ مدد کے لیے دیر سے اپیل کرنے کا نقصان ہوگا۔

انہوں نے اس وقت کو سیاسی بیان بازی کا موقع قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے پنجاب کے میڈیا کی تعریف کی کہ وہ اس مشکل وقت میں مثبت رپورٹنگ کررہے ہیں، اور امید ظاہر کی کہ سندھ کا میڈیا بھی اس سے سبق لے گا۔

بعد ازاں ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیلاب سینٹرل پنجاب سے ہوتا ہوا ملتان اور جنوبی پنجاب پہنچ چکا ہے، ایسے وقت میں پیپلز پارٹی کے نمائندے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا فوکس ہمیشہ عوام کی خدمت پر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیلاب کے تین مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں عوام کی جان بچانی ہوتی ہے اور حکومت اس پر بھرپور کام کر رہی ہے۔ دوسرا مرحلہ ریلیف کا ہوتا ہے، جس میں متاثرین کو راشن اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اس کے لیے بھی حکومت اور عوام دونوں کوشش کر رہے ہیں کہ غریب عوام تک زیادہ سے زیادہ سہولتیں پہنچ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: قمبرشہدادکوٹ: بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب زدگان میں گھروں کی ملکیتی دستاویزات تقسیم کردیں

انہوں نے کہا کہ تیسرا مرحلہ سب سے اہم ہے، جب سیلاب گزر جاتا ہے تو متاثرین کی بحالی اور تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ہم صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں سے کہیں گے کہ اس مرحلے میں عوام کو اکیلا نہ چھوڑیں اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دو، تین سال پہلے سندھ میں بڑا سیلاب آیا تھا، جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت نے وفاقی حکومت اور عالمی برادری سے مدد مانگی، وسائل اکٹھے کیے اور متاثرین کے لیے 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔ بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ یہی منصوبہ پنجاب، خصوصاً جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کے لیے بھی شروع کیا جائے۔

انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو کہا ہے کہ بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثرین تک فوری امداد پہنچائی جائے اور وزیراعظم نے اس پر یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ متاثرین تک یہ مدد ضرور پہنچائیں گے۔

پریس کانفرنس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے بچوں کی درخواست پر ان کے ساتھ گروپ فوٹوز بھی بنوائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp