تیونس کی بحری حدود میں غزہ امدادی فلوٹیلا پر مبینہ ڈرون حملہ

منگل 9 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ کے لیے نکلنے والے عالمی صمود فلوٹیلا نے منگل کو کہا ہے کہ اس کی مرکزی کشتیوں میں سے ایک کو تیونس کے پانیوں میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم اس پر سوار تمام مسافراورعملہ محفوظ رہا۔

بیان کے مطابق پرتگالی پرچم بردار کشتی کو، جس پر فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی موجود تھی، آگ لگنے سے مین ڈیک اور زیرِ عرشہ ذخیرہ گاہ میں نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی تاریخ کا سب سے بڑا مشن، گریٹا تھنبرگ غزہ کا اسرائیلی محاصرہ توڑنے نکل کھڑی ہوئیں

تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق تیونس کی نیشنل گارڈ کے ترجمان نے ڈرون حملے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی معائنے میں دھماکے کا منبع کشتی کے اندر سے ظاہر ہوتا ہے۔

یہ فلوٹیلا ایک بین الاقوامی مہم ہے جو 44 ممالک کے نمائندوں کی حمایت سے عام شہری کشتیوں کے ذریعے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

فلوٹیلا میں دنیا کی کئی نمایاں شخصیات شریک ہیں، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور بارسلونا کی سابق میئر آدا کولو شامل ہیں، جب کہ اٹلی کی پارلیمنٹ کے 4 ارکان بھی اس مہم میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔

حملے کے بعد درجنوں افراد تیونس کی سیدی بو سعید بندرگاہ کے باہر جمع ہوگئے، جہاں فلوٹیلا کی کشتیاں لنگر انداز تھیں۔ انہوں نے فلسطینی پرچم لہرائے اور ’فری فلسطین‘ کے نعرے لگائے۔

اسرائیل نے 2007 میں حماس کے غزہ پر قبضے کے بعد ساحلی علاقے پر بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ حماس تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ہے۔

یہ ناکہ بندی مختلف جنگوں کے دوران بھی برقرار رہی ہے، بشمول موجودہ جنگ، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔ اس حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور تقریباً 250 یرغمال بنائے گئے تھے۔

اس کے جواب میں اسرائیلی فوجی کارروائی سے غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 64 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ عالمی ادارے بھوک کے حوالے سے خبردار کر رہے ہیں کہ علاقے کے کچھ حصے قحط کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: گیم آف تھرونز کے اداکار کا کشتی پر غزہ روانہ ہونے سے قبل شہید فلسطینی بچی کو جذباتی خراج عقیدت

اسرائیل نے مارچ 2024 کے اوائل میں غزہ کو خشکی کے راستے بھی مکمل طور پر بند کر دیا تھا اور 3 ماہ تک کوئی سامان اندر جانے کی اجازت نہیں دی، یہ کہہ کر کہ حماس امداد کو ہتھیار بنا رہی ہے۔

صمود فلوٹیلا نے مزید کہا کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور نتائج دستیاب ہوتے ہی شائع کیے جائیں گے۔

’ہمارے مشن کو خوفزدہ کرنے اور سبوتاژ کرنے کی کوششیں ہمیں روک نہیں سکتیں۔ غزہ کا محاصرہ توڑنے اور اس کے عوام سے یکجہتی کے ہمارے پرامن مشن کو ہم عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی کی توجہ طلبی اور جرمن چانسلر کی دوری، بھارتی وزیراعظم ایک بار پھر مذاق کا نشانہ بن گئے

ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی کا سامنا ہوگا، طلال چوہدری

بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے

دھند کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشن متاثر

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘