ٹیکس کا سارا بوجھ عوام پر، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تو کام چلیں گے، سپریم کورٹ

بدھ 10 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے معزز جج جسٹس محمد علی مظہر نے سپر ٹیکس سے متعلق اہم ترین کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ  ٹیکس کا سارا بوجھ آخرکار صارف اور عوام پر آتا ہے، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تو کام چلیں گے۔

سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

نجی کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ کیا انکم ٹیکس قانون کی شقیں آئین کے مطابق ہیں۔ عدالت انکم ٹیکس قانون کو آئین کے تناظر میں دیکھے۔

یہ بھی پڑھیے ایف بی آر کا بغیر مہلت ریکوری نوٹس غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں ایف بی آر کے لیے سب سے بڑی مشکل مخلتف ہائیکورٹس کے مخلتف فیصلے ہیں۔ ایک ہی معاملے پر ہائیکورٹس کے مختلف فیصلے موجود ہیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ  اس کیس میں ہائیکورٹس کیخلاف اپیلیں ہی سن رہے ہیں اور ہائیکورٹس کے فیصلوں کو مدنظر رکھ کر ہی اپنا فیصلہ دیں گے۔

ایف بی آر کی وکیل نے مزید کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ سابقہ 2 فیصلوں کی بنیاد پر دیا۔سندھ ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے کوئی ڈیٹا نہیں مانگا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان نے ٹیکس پیئر میں تفریق کیوں رکھی؟ ٹیکس لگانے کا واحد مقصد تو حکومتی آمدن کو بڑھانا ہوتا ہے، ایسے اقدامات سے ٹیکس پیئر کی حوصلہ  شکنی ہوتی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ٹیکس کا سارا بوجھ آخرکار صارف اور عوام پر آتا ہے، سیمنٹ کی بوری ہو یا ایک ایل این جی کا بوجھ عام آدمی پر ہی  آتا ہے۔ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تو کام چلیں گے۔

ایف بی آر کی وکیل نے کہا کہ حکومت نے سپر ٹیکس صرف خاص حد تک آمدن  والے پر لگایا، انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی تعریف میں فرق ہے، سپر ٹیکس 300 ملین کی آمدن سے زائد پر لگایا جاتا ہے۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مقدمہ صرف اتنا ہے کہ ٹیکس پیئر میں تفریق کیوں کی گئی؟ جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ نہ فیصلوں میں وجوہات ہیں نہ ٹیکس میں تفریق کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ بجٹ تقریر کے علاوہ کوئی اور دستاویز کیس میں ضروری نہیں۔ سوال یہ ہے کہ دیگر ٹیکسز کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ٹیکس لگایا گیا؟

یہ بھی پڑھیے ایف بی آر کی ٹیکس دہندگان کیخلاف ایف آئی آرز، گرفتاریاں اور ٹرائلز غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا بڑا، تفصیلی فیصلہ جاری

وکیل ایف بی آر نے موقف اختیار کیا کہ  سپر ٹیکس ایک خاص آمدن سے اوپر والے 15 سیکٹرز پر لگایا گیا،

کسی کمپنی کے وکیل نے ٹیکس ادائیگی کی استطاعت نہ ہونے کا موقف نہیں اپنایا۔

وکلا کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟