پنجاب کے ضلع ملتان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور حکام نے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کراچی میں بھی صورت حال سنگین ہے۔
سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کے مطابق شہر کو بچانے کے لیے سیلاب کا رخ بستی لانگ، بستی کنہوں اور بہادر پور کی جانب موڑا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف اور نقصان کا تخمینہ لگانے کا حکم
انہوں نے کہاکہ پانی جن بستیوں میں جائےگا، انہیں خالی کرنے کے اعلانات کروائے جارہے ہیں، شگاف ڈالنے کا فیصلہ شہر کو بچانے کے لیےکیا گیا۔
جلال پور پیر والا کو بچانے کے اوچ شریف روڈ میں شگاف ڈال دیا گیا، بستی لانگ، کنہوں سمیت دیگر آبادیاں متاثر ہونگی۔ https://t.co/8Ba5gJ6uhs pic.twitter.com/dVTfn8rthw
— Muhammad Umair (@MohUmair87) September 10, 2025
صادق علی ڈوگر کے مطابق جلال پور شہر کو بچانےکے لیے بنائے گئے عارضی بند پر پانی کا دباؤ کم نہیں ہورہا تھا۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہیڈ پنجند، سدھنائی اور گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈسلیمانکی، ہیڈ اسلام ، میلسی سائفن پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ گڈوبیراج، سکھربیراج، تریموں اوربلوکی پردرمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
کراچی میں سیلاب کے باعث 7 افراد جان کی بازی ہار گئے
دوسری جانب کراچی میں بھی سیلاب کے باعث صورت حال انتہائی سنگین ہے، اور اب تک 7 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
کراچی میں دو روز سے جاری وقفے وقفے کی بارشوں نے شہر کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ مختلف حادثات اور واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی، جبکہ تین افراد تاحال لاپتا ہیں۔ بارشوں کے نتیجے میں ملیر اور لیاری کی ندیاں طغیانی کے باعث دریا کا منظر پیش کر رہی ہیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔
حکام کے مطابق بارش کے بعد کئی علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔ میئر کراچی کی درخواست پر چیف سیکریٹری سندھ نے فوج کو طلب کیا، جس کے بعد پاک فوج، رینجرز اور ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے متعدد متاثرہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق گڈاپ ٹاؤن میں کونکر ندی میں ڈوبی ہوئی ایک کار سے 2 افراد کی لاشیں نکالی گئیں، جن کی شناخت 60 سالہ نبو گلاب اور 45 سالہ جاوید شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق 18 سالہ احمد قادر کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا، جس کی لاش نارتھ ناظم آباد سے عباسی شہید اسپتال لائی گئی۔
ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ ملیر ندی میں ڈوبنے والے 2 افراد میں سے ایک شخص مصطفیٰ علی گلاب کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ دوسرے شہری فاران اکرم کی تلاش جاری ہے۔ ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد اور ڈپٹی کمشنر ملیر بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے موقع پر موجود تھے۔
کراچی: شاہ لطیف ٹاؤن، یار محمد گوٹھ، ملیر ندی میں دو افراد کے ڈوبنے کا واقعہ، ترجمان ریسکیو 1122
کراچی: سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ریسکیو 1122 کو اطلاع ملتے ہی واٹر ریسکیو ٹیمیں بمعہ ایمبولینس اور واٹر ریسکیو وہیکل جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں، ترجمان ریسکیو 1122
کراچی: ریسکیو1122… pic.twitter.com/bSr40Qkh3r
— Sindh Information Department (@sindhinfodepart) September 10, 2025
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے بے پناہ جانی اور اقتصادی نقصان ہوا، وزیراعظم کا ملک میں موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان
ادھر شہر میں مسلسل بارش کے باعث کئی ڈیم بھر گئے اور اوور فلو ہونے سے پانی سعدی ٹاؤن اور اسکیم 33 کے متعدد رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا، جس سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔














